این آر سی کی حتمی فہرست میں شامل نہ کیے جانے سے ’بنگالی ہندو‘ پریشان

منورنجن سیل نے ایف سی آئی میں جوائننگ کے بعد انہوں نے آسام میں شادی کی اور تبھی سے یہیں رہ رہے ہیں۔ ان کے تین بیٹے پردیپ، مرنال اور میٹھو سبھی نے یہیں پیدا ہوئے اور یہیں پرورش پائی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

گوہاٹی: ستر سالہ منورنجن سیل سخت پریشان ہیں کیونکہ ان کے خاندان کو قومی شہریت کے رجسٹر (این آر سی) کی حتمی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ 5 افراد پر مشتمل یہ خاندان گزشتہ کئی سالوں سے این آر سی میں نام شامل کرانے کے لئے جد و جہد کر رہا ہے۔ این آر سی کو حال میں آسام حکومت نے اپڈیٹ کیا ہے، جس سے ریاست میں قیام پذیر موزوں شہریوں کی شناخت کی جا سکے۔ حالانکہ ان کی جد و جہد ختم ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے۔

سیل نے یہاں اپنی رہائش پر میڈیا سے کہا، ’’ہم بنیادی طور پر تریپورہ کے رہائشی ہیں۔ میں اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی امید کے ساتھ سال 1970 میں آسام چلا آیا۔ میں نے 13 مارچ 1970 کو آسام حکومت کے روزگار دفتر میں اپنا نام درج کرایا اور فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی) میں 1972 میں ملازمت حاصل کی۔‘‘

ایف سی آئی میں جوائننگ کے بعد میں نے آسام میں شادی کی اور تبھی سے یہیں رہ رہا ہوں۔ ان کے تین بیٹے پردیپ، مرنال اور میٹھو سبھی نے یہیں جنم لیا اور راجدھانی میں ہی انہوں نے پرورش پائی۔ اس کے بعد بھی ان کے نام این آر سی میں شامل نہیں ہو پائے۔

انہوں نے کہا، ’’ہم حقیقی ہندوستانی شہری ہیں۔ میرے والد کے پاس تریپورہ میں 1960 کے زمین کے دستاویزات موجود ہیں، جسے میں نے اپنے روز گار دفتر کے رجسٹریشن کے دستاویزات میں بھی جمع کرائے تھے اور اب وہ قابل قبول نہیں رہے۔‘‘

واضح رہے کہ سیل اور ان کا خاندان ان 20 لاکھ لوگوں میں شامل ہیں جو حتمی این آر سی کی فہرست سے باہر ہیں، اس فہرست کو 31 اگست کو شائع کیا گیا ہے۔ حالانکہ حکومت نے کہا ہے کہ فہرست سے باہر لوگوں کو نہ تو حراست میں لیا جائے گا اور نہ ہی انہیں فوری طور پر غیر ملکی قرار دیا جائے گا۔ پھر بھی وہ غیر ملکی قرار دیئے جانے کے خدشہ کی وجہ سے بہت پریشان ہیں۔

سیل نے کہا، ’’ہم نے اپنے پاس موجود تمام موزوں دستاویز جمع کر دیئے ہیں۔ اب میں اپنی ہندوستانی شناخت کو ثابت کرنے کے لئے کچھ اضافی دستاویزات کہاں سے لا سکتا ہوں؟ میری عمر 73 سال ہے؟ اور میں ایک پنشنر ہوں۔ میرے لئے ہر روز این آر سی سروس سینٹرکی جانب دوڑنا اور کلرکوں کے سامنے یہ ثابت کرنا کہ میں ہندوستانی ہوں، ممکن نہیں ہے۔‘‘

ادھر جھنو داس (52) کا مسئلہ بے حد الگ ہے۔ حتمی این آر سی فہرست میں ان کے شوہر اور دو بیٹیوں کے نام تو شامل ہیں لیکن ان کا نام این آر سی سے باہر ہے۔

این آر سی سے باہر سنگیتا دت کہتی ہیں، ’’میں اپنی ماں کا نام حتمی این آر سی میں نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہوں۔ میری ماں سودیپتا پال ایک بیوہ ہیں، جن کے شوہر ایس کے پال ہندوستانی فضائیہ میں تھے۔ مسئلہ یہ ہے کہ میری ماں کانام شادی سے قبل کانن بالا داس تھا، میرے شوہر سے شادی کے بعد سسرال والوں نے ان کا نام سودیپتا پال کر دیا۔‘‘

Published: 3 Sep 2019, 3:10 PM
next