بنگال: پوجا کے پنڈال میں درگا کی جگہ ’مہاجر ماں‘ کی مورتی!

بے ہالہ کی بیریشہ درگا پوجا کمیٹی نے درگا پوجا کی مورتی کی جگہ مہاجر خاتون مزدوروں کی جدو جہد کو سلام پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے

تصویر بشکریہ ٹوئٹر / @sindhu_ranjith
تصویر بشکریہ ٹوئٹر / @sindhu_ranjith
user

قومی آوازبیورو

کلکتہ: نوراتری کی شروعات کے ساتھ ہی بنگال میں درگا پوجا کی گہما گہمی شروع ہوگئی ہے۔ کورونا بحران کی وجہ سے اس سال درگا پوجا بڑے پیمانے پر منعقد نہیں کی جا رہی ہے اور حکومت کی جانب سے سخت ہدایات اور احکامات دئے گئے ہیں کہ پوجا پنڈال میں بیک وقت زیادہ بھیڑ جمع نہیں کی جا سکتی۔

پوجا پنڈالوں کو مختلف تھیم پر بنانے کا رواج رہا ہے اور اس بار بھی پنڈالوں میں کئی طرح کے رنگ نظر آ رہے ہیں لیکن جنوبی کلکتہ کے بے ہالہ میں قائم ایک درگا پنڈال کی تھیم سب سے دلچسپ اور موضوع بحث ہے۔ بے ہالہ کی بیریشہ درگا پوجا کمیٹی نے درگا پوجا کی مورتی کی جگہ مہاجر خاتون مزدوروں کی جدو جہد کو سلام پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ کورونا کے سبب نافذ کئے گئے لاک ڈاؤن کے درمیان ہزاروں خواتین نے اپنے بچوں کو گود میں لے کر کئی کئی سو کلو میٹر کا سفر طے کیا ہے ۔

بے ہالہ کی بیریشہ کلب درگا پوجا کمیٹی نے درگا کے مجسمہ کی جگہ ایک مہاجر خاتون مزدور کی مورتی نصب کی ہے، جس نے اپنی گود میں نوزائدہ بچے کو اٹھا رکھا ہے۔ کمیٹی نے نہ صرف درگا بلکہ سرسوتی اور لکشمی کی مورتیوں کی جگہ بھی مہاجر مزدوروں کے مجسمہ نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پنڈال میں دیویوں کے علامتی مجسموں کو مہاجر مزدوروں کی بیٹیوں کی طرح نصب کیا جائے گا۔ ان مورتیوں میں لکشمی اپنی سواری الو اور سرسوتی ہنس پر سوار رہے گی۔ جبکہ چوتھی مورتی ہاتھی کے سر کے ساتھ ہوگی جو گنیش کی علامتی شکل ہوگی۔

ان چاروں مورتیوں کو پنڈال میں درگا کے 10 ہاتھوں والے روایتی مجسمے کی طرف بڑھتے ہوئے دکھایا جائے گا۔ اس کو اس طرح دکھایا جائے گا کہ اس مشکل دور میں تمام مائیں راحت کی التجا کرتے ہوئے درگا کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ اس بار باریشہ کلب کا مرکزی موضوع بھی ریلیف ہی رکھا گیا ہے۔

next