بھیک یا آزادی: این ایس یو آئی نے کنگنا رانوت کی بہتر ’ذہنی صحت‘ کے لیے یگیہ کیا

این ایس یو آئی قومی صدر نیرج کندن نے کہا کہ کنگنا رانوت جیسی بھی ہیں لیکن ہیں تو ہمارے ملک کی بیٹی، اس لیے ان کو جلد سے جلد عقل ہو اس کے لیے یگیہ کیا گیا ہے۔

تصویر بذریعہ پریس ریلیز
تصویر بذریعہ پریس ریلیز
user

قومی آوازبیورو

نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے آج ملک کے مجاہدین آزاد کی بے عزتی کرنے والی بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رانوت کی بہتر عقل کے لیے ایک یگیہ کا انعقاد کیا۔ یگیہ (پوجا) این ایس یو آئی ہیڈکوارٹر میں قومی صدر نیرج کندن کی قیادت میں انجام پایا۔ اس میں بڑی تعداد میں این ایس یو آئی کارکنان موجود تھے۔

بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رانوت کو حال ہی میں پدم شری سے نوازا گیا ہے، جو ملک کے شہریوں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کو اپنی اہلیت ثابت کرنے پر دیا جاتا ہے۔ کنگنا کو دیے گئے اس ایوارڈ کو ان اہل لوگوں کی بے عزتی قرار دیا گیا ہے جنھیں یہ ایوارڈ ان کی قابلیت کے لیے دیا گیا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ملک کے لیے کسی بھی اہم تعاون کے بغیر کنگنا کو پدم شری دینا انعام یافتگان کی بے عزتی کے علاوہ کچھ نہیں۔


این ایس یو آئی لیڈران کا کہنا ہے کہ کنگنا رانوت نے ’ٹائمز ناؤ‘ کے ایک ٹی وی پروگرام میں ملک کے عظیم مجاہدین آزادی کی بے عزتی کی۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان کو اصل آزادی 2014 میں ملی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی طرح سے پدم شری ایوارڈ کی حقدار نہیں ہیں۔ آج منعقد یگیہ تقریب کے موقع پر این ایس یو آئی لیڈران نے کہا کہ اس کے ذریعہ کنگنا کی بہتر ذہنی صحت کے لیے دعا کی گئی۔ ساتھ ہی اس موقع پر این ایس یو آئی نے مطالبہ کیا کہ ان سے پدم شری ایوارڈ واپس لیا جائے۔

این ایس یو آئی کے قومی صدر نیرج کندن نے کہا کہ پدم شری ایوارڈ کنگنا رانوت سے واپس لیا جانا چاہیے کیونکہ وہ اس اعزاز کی حقدار نہیں ہیں۔ ساتھ ہی کنگنا رانوت نے آزادی کے عظیم مجاہدین آزادی اور قربانی دینے والے جنگجوؤں کی بے عزتی کی ہے، جو ایک سچے ہندوستانی کی نظر میں ناقابل قبول ہے۔ کنگنا کا بیان ملکی باشندوں کے قومی جذبہ کو مجروح کرتا ہے۔ نیرج کندن نے ساتھ ہی کہا کہ کنگنا رانوت جیسی بھی ہیں، لیکن ہیں تو ہمارے ملک کی بیٹی۔ اس لیے ان کو جلد سے جلد عقل ہو اس کے لیے یگیہ کیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔