رامپور ضمنی انتخاب: ڈمپل یادو بمقابلہ جیہ پردہ ہونے کا امکان

رامپور سیٹ کبھی نہ جیتنے والی بی جے پی کو اس وقت قوی امید ہے کہ جیہ پردہ کو میدان میں اتار کر وہ یہ سیٹ جیت سکتی ہے۔ لوک سبھا انتخابات میں شکست کے بعد جیہ پردہ لگاتار رامپور کا دورہ کر رہی ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

لکھنؤ: اترپردیش اسمبلی ضمنی انتخابات میں رامپور اسمبلی حلقے سے ایک بار پھر دلچسپ سیاسی مقابلہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ رامپور اسمبلی ضمنی انتخاب میں جیہ پردہ اور سماج وادی پارٹی اکھلیش یادو کی بیوی ڈمپل یادو کےانتخاباتی میدان میں اترنے کے امکانات ہیں۔

ضمنی انتخابات میں سماج وادی پارٹی قنوج پارلیمانی حلقے سے سابق ایم پی و اکھلیش یادو کی بیوی ڈمپل یادو کو رامپور اسمبلی حلقے سے میدان میں اتار سکتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ سیٹ ایس پی۔ ایم ایل اے اعظم خان کے رکن پارلیمان منتخب ہونے کے بعد خالی ہوئی ہے۔

وہیں دوسری جانب بی جے پی بھی سماج وادی پارٹی کو سخت ٹکر دینے کے لئے بالی ووڈ ادا کارہ و اعظم خان کے خلاف لوک سبھا الیکشن ہارنے والی جیہ پردہ کو میدان میں اتار سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق رامپور اسمبلی حلقہ جہاں سے اعظم خان نو مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں وہاں سے ڈمپل یادو کو ضمنی انتخاب میں اتارنے کے لئے پارٹی کے اندر بات چیت چل رہی ہے اور جلد ہی اس کا اعلان کیا جائے گا۔

ایک سینئر ایس پی لیڈر کے مطابق اگرچہ ایس پی۔ بی ایس پی کے درمیان اتحاد ختم ہوچکا ہے لیکن ہمیں توقع ہے کہ بی ایس پی رامپور سے ڈمپل یادو کے سامنے اپنا امیدوار نہیں اتارے گی۔ اور ہمیں اسی طرح کی امید کانگریس سے بھی ہے۔ بصورت دیگر ووٹوں کی تقسیم ہوسکتی ہے جس کا راست فائدہ بی جے پی کو ملے گا۔ لیڈر نے مزید کہا کہ ڈمپل یادو کی امیدواری کا فیصلہ جلد کیا جائے گا۔

وہیں دوسری جانب رامپور سیٹ کبھی نہ جیتنے والی بی جے پی کو اس وقت قوی امید ہے کہ جیہ پردہ کو میدان میں اتار کر وہ یہ سیٹ جیت سکتی ہے۔ لوک سبھا انتخابات میں شکست کے بعد جیہ پردہ لگا تار رامپور کا دورہ کر رہی ہیں اور اپنے مقابلے کے لئے راستہ ہموار کر رہی ہیں۔ جیہ پردہ بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے سے قبل 2004 اور 2009 میں سماجوادی پارٹی کے ٹکٹ پر یہاں سے لوک سبھا کے لئے منتخب ہوچکی ہیں۔

رامپور اسمبلی حلقے سے اعظم خان 1980 سے رکن اسمبلی ہیں اور 1992 میں سماج وادی کی تشکیل کے بعد اعظم خان نے یہاں سے ایس پی امیدوار کے طور پر جیت درک کی تھی۔ بی جے پی کے علاوہ بی ایس پی بھی یہاں سے ابھی تک اپنا کھاتہ نہیں کھول پائی ہے۔

ڈمپل یادو کے سیاسی سفر کا آغاز 2009 میں فیض آباد ضمنی انتخاب کے ہار کے ساتھ ہوا لیکن وہ 2012 میں بلا مقابلہ قنوج ضمنی انتخاب میں پارلیمنٹ کے لئے منتخب ہوئیں۔ یہ سیٹ ان کے شوہر اکھلیش یادو کے وزیر اعلی بننے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ وہ 2014 کے انتخابات میں بھی یہاں سے منتخب ہوئیں لیکن 2019 کے عام انتخابات میں انہیں بی جے پی امیدوار سبرت پاٹھک کے ہاتھوں تقریباً 12 ہزار ووٹوں سے شکست کا سامان کرنا پڑا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔