شنکراچاریہ اویمکتیشورانند کی بے عزتی سے بریلی سٹی مجسٹریٹ النکار اگنی ہوتری مایوس، 26 جنوری کو عہدہ سے دیا استعفیٰ

گورنر کو لکھے اپنے خط میں النکار نے بتایا ہے کہ پریاگ راج میں جو کچھ پیش آیا، اس سے واضح ہے کہ مقامی انتظامیہ کے ذریعہ برہمنوں کی ملک گیر بے عزتی کی گئی ہے۔ یہ واقعہ فکر انگیز اور سنگین نوعیت کا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>النکار اگنی ہوتری حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے، تصویر ’ایکس‘</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

بریلی کے سٹی مجسٹریٹ عہدہ سے النکار اگنی ہوتری نے استعفیٰ دے کر پوری ریاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ خاص طور سے ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ النکار کے اس فیصلے سے حیران و ششدر ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ استعفیٰ انھوں نے 26 جنوری جیسے خاص موقع پر دیا ہے، جو ان کی طرف سے ایک بڑا پیغام تصور کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف جب پورا ملک یومِ جمہوریہ منا رہا ہے، انھوں نے استعفیٰ کے ذریعہ شنکراچاریہ اویمکتیشورانند اور برہمنوں کی بے عزتی پر اپنی مایوسی و ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

النکار اگنی ہوتری نے گورنر اور الیکشن کمیشن کو بھیجے گئے اپنے 5 صفحات کے استعفیٰ نامہ میں سب سے نیچے واضح حروف میں لکھا ہے کہ اب مرکزی و ریاستی حکومت میں نہ ہی ڈیموکریسی ہے اور نہ ہی ریپبلک، صرف گمراہی ہے۔ ملک میں اب دیسی حکومت نہیں بلکہ بدیسی جنتا پارٹی کی حکومت ہے۔ انھوں نے یو جی سی بل پر بھی اپنی ناراضگی کا اظہار اس خط میں کیا ہے۔


النکار اگنی ہوتری نے اپنے استعفیٰ نامہ میں خود کو اتر پردیش سول سروس 2019 بیچ کا گزیٹیڈ افسر بتایا ہے۔ انھوں نے خط میں بنارس ہندو یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کا ذکر بھی کیا ہے۔ وہ براہ راست گورنر کو مخاطب ہوتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پریاگ راج میں ماگھ میلہ کے دوران مونی اماوسیا کے غسل سے متعلق جو کچھ ہوا وہ فکر انگیز ہے۔ جیوتش پیٹھ جیوترمٹھ کے شنکراچاریہ اویمکتیشورانند اور ان کے شاگرد، بٹوک، برہمنوں سے مقامی انتظامیہ نے مار پیٹ کی۔ بزرگ آچاریوں کو مارتے ہوئے بٹوک برہمن کو زمین پر گرا کر اور اس کی شکھا (چوٹی) کو پکڑ کر گھسیٹ کر پیٹا گیا اور اس کے وقار کو مجروح کیا گیا۔ چونکہ چوٹی/شکھا برہمن اور سادھو سَنتوں کی مذہبی و ثقافتی علامت ہے، اور میں (النکار اگنی ہوتری) خود برہمن وَرن سے ہوں، اس لیے پریشان ہوں۔

خط میں آگے لکھا گیا ہے کہ پریاگ راج کے اس واقعہ سے یہ واضح ہے کہ مقامی انتظامیہ کے ذریعہ برہمنوں کی ملک گیر بے عزتی کی گئی ہے۔ النکار اگنی ہوتری کہتے ہیں کہ پریاگ راج میں پیش آیا واقعہ ایک فکر انگیز اور سنگین موضوع ہے۔ ایسے واقعے موجودہ حکومت میں ہونا ایک معمولی برہمن کی روح کو بھی کانپنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اس معاملہ نے یہ ظاہر کر دیا کہ مقامی انتظامیہ اور موجودہ ریاستی حکومت ایک برہمن مخالف نظریہ کے ساتھ کام کر رہی ہے، اور سادھو سَنتوں کے وقار کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے۔


النکار اگنی ہوتری کا کہنا ہے کہ وہ شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند کے شاگردوں کی پٹائی سے بہت تکلیف میں ہیں۔ النکار یو جی سی کے نئے قانون کی مخالفت کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ اس سلسلے میں سٹی مجسٹریٹ کی ایک تصویر پیر کے روز سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہو رہی ہے۔ اس تصویر میں وہ پوسٹر لے کر کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس پوسٹ میں لکھا ہے ’’ہیش ٹیگ یو جی سی رول بیک... سیاہ قانون واپس لو۔ شنکراچاریہ اور سَنتوں کا یہ اپمان، نہیں سہے گا ہندوستان‘‘۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔