تیس ہزاری معاملہ: وکلاء پر ہڑتال کے دوران جج سے مار پیٹ کا الزام! بارابنکی میں مقدمہ درج

دہلی کے تیس ہزاری کورٹ میں گزشتہ سنیچر کو ہوئے پر تشدد واقعہ کے خلاف مظاہرہ میں اتر پردیش کے وکیلوں کی آج ہڑتال کے دوران بارابنکی کے وکیلوں نے جج کے ساتھ بدسلوکی کی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

بارابنکی: دہلی کے تیس ہزاری کورٹ میں گزشتہ سنیچر کو ہوئے پر تشدد واقعہ کے خلاف مظاہرہ میں اتر پردیش کے وکیلوں کی آج ہڑتال کے دوران بارابنکی کے وکیلوں نے جج کے ساتھ بدسلوکی کی۔ ذرائع کے مطابق جج سندیپ اپنے دفتر میں آرڈر ٹائپ کرا رہے تھے کہ کچھ وکیل ان کے سامنے آگئے اور گالی گلوج اور مار پیٹ تک پر آمادہ ہو گیے۔

جج سندیپ جین نے درج کرائی گئی اپنی ایف آئی آر میں کہا کہ دفتر میں جب وہ کام کر رہے تھے تو تقریبا پچاس وکلاء آئے اور ان کا کالر پکڑ کر مارپیٹ کرنے لگے۔ ان کی سلامتی میں تعینات گارڈ کی کاربائن چھیننے کی کوشش کی گئی اور چپراسی سے بھی مارپیٹ کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ وکیل دھمکی دے رہے تھے کہ تم بہت کام کرتے ہوتمہیں اچھی طرح دیکھیں گے۔ پولس نے وکلا کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

تیس ہزاری واقعہ کے بعد سے ملک بھر کے وکلاء ہڑتال کر رہے ہیں
تیس ہزاری واقعہ کے بعد سے ملک بھر کے وکلاء ہڑتال کر رہے ہیں

اس معاملے کے تعلق سے بارابنکی کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولس (اے سی پی) اشوک کمار شرما نے کہا کہ وکلاء نے ضلع مجسٹریٹ کو میمورنڈم دیا تھا کہ آج ان کی ہڑتال ہے۔ آج جمعہ کے روز کچھ وکیل جج سندیپ جین کے یہاں پہنچے اور ان سے اور ان کے عملے کے ساتھ بدسلوکی کی۔

سندیپ جین کی تحریر پر نامعلوم وکیلوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مزید تحقیقات میں سامنے آنے والے حقائق کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک بدسلوکی کرنے کا انکشاف ہوا ہے اور سرکاری کام میں رخنہ اندازی کرنے کی دفعات میں مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ اگر سی سی ٹی وی کیمرے کی تفتیش میں کوئی فوٹیج مل جاتی ہے تو اس پر بھی غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حملہ، سرکاری کام میں رخنہ اندازی اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔