’ٹیلیگرام پر پابندی، یعنی چور کو پکڑنے کی جگہ متاثرہ کے گھر پر تالا لٹکا دو‘، راہل گاندھی کا مودی حکومت پر حملہ
راہل گاندھی نے کہا کہ لاکھوں طلبا سالوں سے ٹیلیگرام پر پڑھتے رہے ہیں۔ نوٹ، ٹیسٹ سیریز، ڈسکشن، تیاری سبھی میں ٹیلیگرام استعمال کیا۔ راہل نے سوال کیا کہ اس سہولت کو چھین لینا ’پیپر لیک‘ کا حل کیسے ہوا؟
نیٹ (یو جی) 2026 کے دوبارہ امتحان کے پیش نظر ٹیلیگرام پر حکومت ہند نے عارضی پابندی لگا دی ہے۔ اس ایپ کا استعمال اب ہندوستان میں نہیں ہو پائے گا، جس پر کئی لوگ ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ معاملہ عدالت میں پہنچ چکا ہے اور اپوزیشن لیڈران بھی لگاتار وزیر اعظم مودی کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے ٹیلیگرام پر لگائی گئی پابندی کو ’چور کو پکڑنے کی جگہ متاثرہ کے گھر میں تالا لگانے‘ کے مترادف قرار دیا ہے۔
کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کردہ بیان میں لکھا ہے کہ ’’ٹیلیگرام پر پابندی، مودی حکومت کا پیپر لیک روکنے کا نیا نسخہ۔ یعنی چور کو پکڑنے کی جگہ متاثرہ کے گھر پر تالا لٹکا دو۔‘‘ ساتھ ہی وہ لکھتے ہیں کہ لاکھوں طلبا سالوں سے ٹیلیگرام پر پڑھتے رہے ہیں۔ نوٹ، ٹیسٹ سیریز، ڈسکشن، تیاری سبھی میں ٹیلیگرام کا استعمال کیا۔ راہل نے سوال کیا کہ اس سہولت کو چھین لینا ’پیپر لیک‘ کا حل کیسے ہوا؟ انھوں نے یہ بھی لکھا کہ ’’یہ فُل پروف بھی نہیں ہے۔ یہ ملک کا ہر طالب علم جانتا ہے، اور پیپر لیک مافیا بھی۔ پھر اگلی پابندی کس پر لگائیں گے؟ واٹس ایپ؟‘‘
اس سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس رکن پارلیمنٹ نے مودی حکومت کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’امتحان کے دن طلبا کی تلاشی ہوگی۔ جیبیں قینچی سے کاٹی جائیں گی۔ سوالنامہ فضائیہ سے بھیجے جائیں گے۔ دکھاوے کی کوئی کمی نہیں ہوگی۔ لیکن بیماری کی جڑ پر ایک حملہ بھی نہیں، کیونکہ پیپر لیک مافیا اسی حکومت کی دیکھ ریکھ میں پرورش پا رہے ہیں، اور نوجوانوں کو خون کے آنسو رلا رہے ہیں۔‘‘ آخر میں راہل گاندھی براہ راست وزیر اعظم مودی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’مودی جی، دکھاوا چھوڑیے۔ مافیا پر حملہ کیجیے، طلبا پر نہیں۔ ’طلبا کی گونج‘ سن لیجیے، ورنہ ملک کا نوجوان اپنا حق لینا جانتا ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
