اندرا گاندھی کی مضبوط قیادت سے جیتی گئی بنگلہ دیش کی جنگ آزادی نے تاریخ ہی نہیں جغرافیہ کو بھی تبدیل کر دیا: سونیا گاندھی

کانگریس صدر سونیا گاندھی نے بنگلہ دیش کی جنگ آزادی کی 50ویں سالگرہ کی تقریب میں کہا کہ یہ سیاسی، سفارتی اور فوجی پالیسی کی ایسی مثال ہے جس نے برصغیر میں تاریخ ہی نہیں بلکہ جغرافیہ کو بھی بدل دیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

دہلی کے جواہر بھون میں بنگلہ دیش کی جنگ آزادی کی پچاسویں سالگرہ سے متعلق منعقد ہوئی تقریب کے اختتام کے موقع پر کی گئی اپنی تقریر میں کانگریس صدر سونیا گاندھی نے کہا کہ ’’اس سے پہلے کہ میں کچھ کہوں، میں فوجی طاقتوں کے ان سبھی اراکین کو شکریہ کہنا چاہتی ہوں جنھوں نے آج ہمارے ساتھ اپنے تجربات شیئر کیے اور اس جنگ کے دوران اپنائی گئی پالیسی کا تذکرہ کیا۔ انہی تجربات اور سیاسی و سفارتی اور فوجی قوت سے ہی اس جنگ میں ہماری فتح یقینی ہوئی۔‘‘

سونیا گاندھی نے کہا کہ ’’آج سے 50 سال پہلے بنگلہ دیش کے بہادر اور طاقتور لوگوں نے اپنے آپ کو ایک نیا مستقبل دیا۔ اس دوران ہندوستان ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا رہا اور ان کی ہر معاملے میں مدد کی۔ ہندوستان میں بنگلہ دیش کے قریب ایک کروڑ پناہ گزیں کو رہائش دی، ان کی انسانی مدد کی، ان کے لیے بین الاقوامی حمایت اور مدد حاصل کی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہندوستان نے عالمی اور مقامی اسٹیج پر بنگلہ دیش کی آواز اٹھائی۔ آخر کار جب حملہ ہوا تو ہندوستان نے ایک شاندار اور بڑے فوجی آپریشن کے ذریعہ جیت حاصل کی۔ ایسے موقع پر بنگلہ دیش کے مجاہدین آزادی کو بھی یاد کیا جانا چاہیے اور ان کی تعریف ہونی چاہیے۔‘‘

کانگریس صدر نے کہا کہ ’’ہندوستان کے سرکاری افسران اور انٹلیجنس ایجنسیوں نے جو کردار اس آپریشن میں نبھایا، انھی یاد کرتے ہوئے ان کی عزت کی جانی چاہیے۔ اس دوران دنیا کے جو بھی ملک بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑے ہوئے ان کی تعریف بھی ضروری ہے۔ لیکن اس سب سے بڑھ کر ہمیں ہندوستانی فوجی قوتوں کے ڈسپلن، عزائم، ہمت اور قربانی کو یاد کرتے ہوئے انھیں سلام پیش کرنا چاہیے۔‘‘

سونیا گاندھی نے کہا کہ ’’بنگلہ دیش کی آزادی کے لیے جنگ ایک بے حد دانشمندانہ سیاسی، سفارتی اور فوجی پالیسی کی شاندار مثال ہے جس نے برصغیر کی تاریخ ہی نہیں بلکہ جغرافیہ کو بھی بدل دیا۔‘‘ انھوں نے کہا کہ اس تاریخی کام کو جن لوگوں نے انجام دیا ان کے تعاون کے اثر کو آج بھی محسوس کیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اجتماعی پالیسی کی یہ ایک بہترین مثال ہے۔ اس میں حصہ لینے والے لوگوں کو سننا، ان کو صلاح دینا اور ان کی صلاح لینا، انھیں ایک واضح، مقصد سے پر اور نتیجہ خیز طریقے سے قیادت دینے کا کام ایک بے مثال خاتون نے کیا تھا۔ اور آج ہم اندرا گاندھی کو فخر کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔‘‘

کانگریس صدر نے کہا کہ ’’اندرا گاندھی اپنے مضبوط ارادوں اور قائدانہ صلاحیت کے لیے ہمیشہ سے کروڑوں ہندوستانیوں کو ترغیب دیتی رہی ہیں۔ انھوں نے ہندوستان کو خودکفیل بنانے، خاص طور سے زرعی، نیوکلیائی توانائی اور خلائی سائنس کے شعبہ میں جو قدم اٹھائے وہ ہمیشہ یاد کیے جائیں گے۔ ساتھ ہی ماحولیاتی تحفظ، دوردراز کے علاقوں میں بسے لوگوں کے فلاح اور محروموں کی بھلائی کے لیے ان کے ذریعہ اٹھائے گئے قدم قابل تعریف تھے اور قابل تعریف رہیں گے۔‘‘

سونیا گاندھی نے کہا کہ ’’یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ 1971 کا سال کئی معنوں میں اندرا گاندھی کے شاندار سالوں میں سے ایک تھا۔ اسی سال انھوں نے مارچ میں زبردست اکثریت حاصل کی تھی۔ جب ڈھاکہ میں پاکستانی فوج کے ظلم شروع ہوئے تو انھوں نے اس کے خلاف کھڑے ہو کر اس کے اثرات کو سمجھا اور ضروری کارروائی کی۔ انھوں نے سبھی سیاسی پارٹیوں اور عوامی سیکٹر کے لوگوں سے صلاح و مشورہ کیا۔ انھوں نے کئی ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم کو خط بھیجے۔ انھوں نے بیرون ممالک میں ہندوستانی سفیر بھیجے اور یقینی کیا کہ اس دوران سوویت یونین ہندوستان کے ساتھ رہے۔‘‘ کانگریس صدر نے کہا کہ ’’اس دوران اندرا گاندھی نے عالمی برادری کو ساتھ لانے کے لیے کئی ممالک کا دورہ کیا۔ انھوں نے پوری دنیا کو بتایا کہ بنگلہ دیش کے لوگوں پر کیا گزر رہی ہے۔ انھوں نے نجی طور پر لوگوں سے مل کر بنگلہ دیش کے لوگوں کے لیے حمایت جٹائی۔‘‘

سونیا گاندھی نے کہا کہ ’’ہم کیسے بھول سکتے ہیں کہ جس طرح امریکہ نے انھیں دباؤ میں لینے کی کوشش کی اور نہایت ہی بے حسی کے ساتھ ان کا مذاق تک اڑایا۔ امریکی صدر کے کچھ صلاحکاروں کے سامنے وہ بلاخوف کھڑی رہیں۔ وہ تناؤ بھرے دن، ہفتے اور مہینے تھے۔ لیکن انھوں نے ہمت نہیں ہاری اور حوصلہ کے ساتھ اپنی داخلی قوت کا استعمال کر پالیسی کو انجام دیا۔‘‘ سونیا گاندھی نے مزید کہا کہ ’’اتفاق سے اس مشکل دور کے وقت اندرا گاندھی ملک کی وزیر داخلہ بھی تھیں۔ ان کی کابینہ میں وزیر دفاع کی شکل میں بابو جگجیون رام، وزیر خارجہ کی شکل میں سردار سورن سنگھ، وائی بی چوہان اور دیگر اہم ہستیاں تھیں۔‘‘

سونیا گاندھی نے کہا کہ ’’آج ہم اس شاندار کامیابی کا جشن منا رہے ہیں۔ لیکن میرا ماننا ہے کہ اندرا گاندھی آج ہوتیں تو وہ اس جشن کو کسی ایک واقعہ کی جگہ روحانی فخر کے لمحہ کیش کل میں منانے کی جگہ جوش و جذبے کے طور پر منانے کو کہتیں۔ تو آئیے آج اس موقع پر ہم ایک بار پھر ان اصولوں کا جشن منائیں جس کے لیے اندرا جی تاحیات ثابت قدم رہیں۔ اور بالآخر انہی اصولوں کے لیے انھوں نے اپنی جان دے دی۔‘‘

کانگریس صدر نے کہا کہ ’’آج ہم بنگلہ دیش کے لوگوں کو مبارکباد دیتے ہیں۔ بنگلہ دیش کئی معنوں میں وسیع ہوا تھا اور اس نے چیلنجز کا سامنا کیا ہے۔ حال ہی میں اقوام متحدہ نے اسے سب سے کم وسعت والے ممالک کے درجہ سے نکال کر ترقی یافتہ ممالک کے درجہ میں جگہ دیا ہے۔ بنگلہ دیش کی آزادی کے پچاس سال مکمل ہونے پر اس کی حصولیابیوں کا جشن بھی منانا چاہیے۔ ہندوستان ہمیشہ سے بنگلہ دیش کے ساتھ ایک مضبوط تعلق رکھتا رہا ہے۔ اور ان رشتوں کو بنائے رکھنے کی ذمہ داری بھی اس پر ہے۔‘‘

سونیا گاندھی نے کہا کہ ’’دوستو! 1971 کے جنگ کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے اور آگے بھی لکھا جاتا رہے گا۔ بلاشبہ کچھ لوگوں نے اس میں نتیجہ خیز اور اہم کردار نبھایا ہے اور ہمیں ایسے سبھی لوگوں پر فخر ہے۔ لیکن صحیح معنوں میں یہ بنگلہ دیش کے لوگوں کی امیدوں کا ثمرہ ہے۔ یہ اندرا گاندھی کی قیادت والے ہندوستان کے لوگوں کی فتح کا بھی تہوار ہے۔... جے ہند۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔