بنگلہ دیش کو ایل ڈی سی کا فائدہ مل رہا ہے: پیوش گوئل

پیوش گوئل نے کہا کہ بنگلہ دیش ایل ڈی سی میں ہونے کی وجہ سے ڈیوٹی فری برآمدات کا فائدہ حاصل کر رہا ہے اور 2026 تک بنگلہ دیش ایل ڈی سی کی فہرست میں ہے۔

پیوش گوئل، تصویر آئی اے این ایس
پیوش گوئل، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: صنعت و تجارت اور ٹیکسٹائل کے وزیر پیوش گوئل نے آج راجیہ سبھا میں کہا کہ بنگلہ دیش اور ویتنام نے گزشتہ چند سالوں میں ٹیکسٹائل صنعت کے شعبہ میں کافی ترقی کی ہے، کیونکہ بنگلہ دیش کو سب سے کم ترقی یافتہ ملک قرار دیئے جانے اور ویتنام کو یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کا فائدہ مل رہا ہے۔ پیوش گوئل نے یہ بات آج وقفہ سوالات کے دوران ایک ضمنی سوال کے جواب میں کہی۔ اس کے ضمنی سوال کا جواب ریاستی وزیر برائے ٹیکسٹائل درشنا وکرم زردوش دے رہے تھی، لیکن ان کا جواب مکمل کرنے کے بعد پیوش گوئل نے کہا کہ وہ اس معاملے پر تفصیلی اطلاعات دینا چاہتے ہیں۔

پیوش گوئل نے کہا کہ بنگلہ دیش ایل ڈی سی میں ہونے کی وجہ سے ڈیوٹی فری برآمدات کا فائدہ حاصل کر رہا ہے اور 2026 تک بنگلہ دیش ایل ڈی سی کی فہرست میں ہے۔ ویتنام کا یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ ہے، جس کی وجہ سے اسے پورے یورپ میں ڈیوٹی فری برآمدات حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سال 2013 میں آزاد تجارت کے معاہدے پر دستخط نہ کرنے کی وجہ سے ہندوستان اس شعبے میں پیچھے رہ گیا ہے۔


پیوش گوئل نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی پہل کے بعد متحدہ عرب امارات کے ساتھ ایک آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں اور یہ یکم مئی 2022 سے نافذ العمل ہو گیا ہے۔ اس معاہدے پر آسٹریلیا کے ساتھ بھی دستخط کیے گئے ہیں جو 29 دسمبر 2022 سے لاگو ہونے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خلیج کے چھ بڑے ممالک کے ساتھ ساتھ کینیڈا، برطانیہ اور یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ ان ممالک کے ساتھ معاہدہ ہونے کے بعد ہندوستانی برآمدات کو فائدہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کے ممالک ہندوستان کو ایک قابل اعتماد پارٹنر کے طور پر دیکھ رہے ہیں جس سے ٹیکسٹائل سیکٹر کو بھی فائدہ ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ وزارت زراعت بھی اس سمت میں کام کر رہی ہے اور برآمدات بڑھانے میں مدد کر رہی ہے۔ قبل ازیں زردوش نے کہا کہ پروڈکشن لنکڈ پروموشن اسکیم کے تحت ملک میں ٹیکسٹائل کی برآمدات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔