بنگلہ دیش میں اقتدار کا نیا دور، مرد وزیر اعظم مقرر، خواتین وزراء کی تعداد میں کمی
حالیہ اختتام پذیر عام انتخاب میں بنگلہ دیش نشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے 299 میں سے 209 نشستیں جیت کر واضح اکثریت حاصل کی تھی، جبکہ حکومت سازی کے لیے صرف 150 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے
بنگلہ دیش میں حالیہ عام انتخابات کے نتائج نے ملک کی سیاست میں بڑی تبدیلی پیدا کر دی ہے۔ سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے بیٹے طارق رحمان نے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھا کر ایک نئے باب کا آغاز کر دیا ہے۔ تقریباً 35 سال بعد بنگلہ دیش کو ایک مرد وزیر اعظم ملا ہے۔ حالانکہ اس تاریخی تبدیلی کے ساتھ ایک تشویشناک تصویر بھی سامنے آئی ہے۔ نئی حکومت میں مجموعی طور پر 49 اراکین پر مشتمل کابینہ میں صرف 3 خواتین شامل ہیں، یعنی خواتین کی نمائندگی کم ہو کر صرف 6 فیصد رہ گئی ہے۔
خواتین کے حقوق کی تنظیموں اور سیاسی ماہرین نے اس کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کابینہ کی سطح پہر خواتین کی کم شرکت، سیاسی بااختیاری کی دہائیوں کی کامیابیوں کو کمزور کر سکتی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ جمعرات کو ہونے والے عام انتخاب میں بنگلہ دیش نشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے 299 میں سے 209 نشستیں جیت کر واضح اکثریت حاصل کی تھی۔ حکومت بنانے کے لیے 150 نشستوں کی ضرورت تھی۔ اس کے علاوہ اتحادی جماعتوں نے 3 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔
واضح رہے کہ نئی کابینہ میں 49 ارکان شامل ہیں جن میں سے صرف 3 خواتین ہیں، یعنی تقریباً 94 فیصد عہدے مردوں کے پاس ہیں۔ مانک گنج-3 سے منتخب ہونے والی رکن پارلیمنٹ افروزہ خانم ریتا کو شہری ہوا بازی اور سیاحت کی وزیر بنایا جا رہا ہے۔ فرید پور-2 سے رکن پارلیمنٹ شمع عبید اسلام کو وزیر مملکت برائے خارجہ امور اور ناٹور-1 کی رکن پارلیمنٹ فرزانہ شرمین پتل کو خواتین و اطفال اور سماجی بہبود کی وزارتوں میں ریاستی وزیر کی ذمہ داری دی جائے گی۔ اتنے بڑے ملک میں جہاں خواتین آبادی کا تقریباً نصف حصہ ہیں، وہاں اعلیٰ سطح پر ان کی شرکت کا اتنا کم ہونا کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 3 کابینہ میں خواتین کی شرکت اس بار سے کچھ بہتر رہی تھی۔ 2019 کی کابینہ کے 47 ارکان میں 4 خواتین تھیں، جن میں اس وقت کی وزیر اعظم شیخ حسینہ بھی شامل تھیں۔ 2014 میں 57 کابینہ ارکان میں 5 خواتین تھیں۔ 2019 کی کابینہ میں 31 ارکان میں 5 خواتین تھیں، جو کہ تقریباً 16 فیصد تھا اور یہ اب تک کی سب سے زیادہ تعداد تھی۔ اسی دور میں دیپو مونی ملک کی پہلی خاتون وزیر خارجہ بنی تھیں اور سہارا خاتون پہلی وزیر داخلہ تھیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔