BHU: ہندو طلباء کی مخالفت کا سامنا کر رہے ’مسلم پروفیسر‘ کی حمایت میں کھڑے ہوئے کئی طلباء

بنارس ہندو یونیورسٹی کے سنسکرت ڈپارٹمنٹ میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر فیروز خان کی تقرری کا معاملہ ابھی تک گرم ہے۔ تازہ خبروں کے مطابق اب مسلم پروفیسر کی حمایت میں بھی طلبا کا ایک گروپ سامنے آ گیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

گزشتہ کچھ دنوں سے بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) میں اس بات کو لے کر ہنگامہ چل رہا ہے کہ آخر ایک مسلم شخص کی تقرری سنسکرت ڈپارٹمنٹ میں کیوں کر دی گئی۔ اس معاملے نے اب ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ دراصل بی ایچ یو کے سنسکرت ودیا دھرم وگیان (ایس وی ڈی وی) میں دو ہفتہ پہلے تقرری پانے والے فیروز خان اب تک ہندو طلبا کی مخالفت کا سامنا کر رہے تھے، لیکن اب ان کی حمایت میں بھی طلبا کا ایک گروپ سامنے آ گیا ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق اپنی تقرری کو لے کر مخالفت سے مایوس اور خوفزدہ مسلم پروفیسر فیروز خان انڈر گراؤنڈ ہو گئے تھے، لیکن اب وہ اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔ ساتھ ہی ان کی حمایت میں کئی طلبا نے آواز اٹھانی شروع کر دی ہے۔

میڈیا میں چل رہی خبروں کے مطابق بدھ کے روز پروفیسر فیروز خان اپنے آبائی شہر راجستھان کے جے پور کے لیے روانہ ہوئے۔ 7 نومبر کو تقرری ہونے کے بعد سے فیروز خان ابھی تک یونیورسٹی میں کلاس نہیں لے پائے ہیں۔ ان کا فون اب بھی سوئچ آف جا رہا ہے۔ ایس وی ڈی وی کے ڈین وندھیشوری مشرا کا کہنا ہے کہ رجسٹرار آفس میں جوائننگ کے بعد سے ڈاکٹر فیروز خان کا کچھ پتہ نہیں ہے۔ چونکہ وہ یونیورسٹی نہیں آ رہے ہیں، ایسے میں کوئی بھی نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہیں۔

حالانکہ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بدھ کے روز بتایا کہ فیروز خان اپنے آبائی شہر جے پور کے لئے نکل گئے ہیں۔ اس طرح کی بھی کچھ خبریں میڈیا میں آ رہی ہیں کہ انھوں نے اپنا استعفیٰ دے دیا ہے، لیکن کچھ بھی مصدقہ طور پر نہیں کہا جا سکتا۔ ڈپارٹمنٹ ہیڈ نے اس طرح کی باتوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے کوئی استعفیٰ نہیں دیا بلکہ اپنے گھر گئے ہیں۔

اس پورے واقعہ سے مایوس فیروز خان نے دو دن قبل امید ظاہر کی تھی کہ طلبا بات چیت کے بعد مان جائیں گے، لیکن ان کا احتجاج اب بھی جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مبینہ طور پر آر ایس ایس اور اے بی وی پی سے تعلق رکھنے والے طلبا یہ نہیں چاہتے کہ انھیں کوئی مسلم پروفیسر سنسکرت کی تعلیم دے۔ حالانکہ اس سلسلے میں فیروز خان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی پوری زندگی سنسکرت پڑھنے اور پڑھانے میں لگا دی اور کبھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ مسلم ہوتے ہوئے وہ یہ کام نہیں کر سکتے۔

اس درمیان فیروز خان کی حمایت میں سامنے آئے طلباء کے ایک گروپ نے یونیورسٹی کے لنکا گیٹ سے لے کر روی داس گیٹ تک مارچ نکالا۔ یہ پرامن مارچ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی طرف سے نکالا گیا تھا جس میں کئی طلبا شریک ہوئے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق مارچ میں این ایس یو آئی، یوتھ فار سوراج اور آئیسا جیسی طلبا تنظیموں کے طلبا شامل تھے۔ بات چیت کے دوران طلبا نے کہا کہ یہ مارچ پہلے سے منصوبہ بند نہیں تھا بلکہ اچانک یہ فیصلہ لیا گیا۔ طلبا کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر یہ ایشو حل نہیں ہوتا ہے تو وہ جمعرات سے وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔