بہرائچ: 200 گرفتاریوں کے بعد اقلیتی طبقہ کے لوگ نقل مکانی پر مجبور

گاؤں کے لوگوں کا کہنا ہے، ’’درگا وسرجن کے دوران ہندو اور مسلمانوں کے درمیان جھگڑا ہوا، جس کے بعد پولس نے صرف مسلمانوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کے مختلف علاقوں میں اقلیتی طبقہ کے لوگوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے، جن مقامات پر ہراسانی کے بعد اقلیتی طبقہ کے لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں ان میں بہرائچ ضلع بھی شامل ہوگیا ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق بہراچ کے کھیڑا گاؤں سے سینکڑوں کی تعداد میں مسلم نوجوانوں نے گرفتاری کے خوف سے گاؤں چھوڑ دیا ہے۔

بہرائچ کے کھیڑا گاؤں سے تقریباً 200 افراد کو پولس نے گرفتار کیا ہے اور ان پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ان گرفتاریوں کو یوپی پولس نے پی اے سی کے ساتھ مل کر انجام دیا ہے۔ پولس کا کہنا ہے کہ 20 اکتوبر کو ایک جھگڑا ہوا تھا، اسی معاملہ میں گرفتاریاں کی گئی ہیں۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق کھیڑا گاؤں کے سینکڑوں مسلم طبقہ سے وابستہ لوگوں نے گاؤں چھوڑ دیا ہے۔

گاؤں والوں کا الزام ہے کہ پولس نے صرف ایک طبقہ کے لوگوں کو ہی گرفتار کیا ہے۔ واقعہ پر بات کرتے ہوئے گاؤں کے باشندوں نے کہا، ’’درگا وسرجن کے دوران ہندو اور مسلمانوں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا، جس کے بعد پولس نے صرف مسلمانوں کو ہی گرفتار کیا۔ ہمیں معاملہ میں بری طرح پھنسایا جا رہا ہے۔ پولس کی جابرانہ کارروائی کے بعد گاؤں میں خوف کا ماحول ہے۔

ادھر پولس کا کہنا ہے کہ 50 لوگوں کو محض پوچھ گچھ کے لئے گرفتار کیا گیا ہے۔ ایڈیشنل ایس پی روی چندرا سنگھ نے میڈیا سے بات کرت ہوئے کہا، ’’پولس نے کم از کم 50 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اس معاملہ میں جانچ کے لئے ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے، ہمارے پاس ثبوت کے طور پر کچھ ویڈیوز ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ہم نے دونوں طبقات کے لوگوں سے بات کی ہے، بے قصوروں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، پولس پوچھ گچھ کر رہی ہے اور تفتیشی کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

Published: 3 Nov 2018, 3:09 PM