باغپت: کھاپ پنچایت میں ہزاروں کسانوں کی شرکت، مودی حکومت کے خلاف نعرے بازی، دیکھیں ویڈیو

بڑوت میں 84 گاؤں کی کھاپ پنچایت کا انعقاد کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں کسان شریک ہوئے اور مودی حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے زرعی قوانین کی واپسی کا مطالبہ کیا

user

قومی آوازبیورو

باغپت: زرعی قوانین کے خلاف گزشتہ دو مہینے سے بھی زیادہ وقت سے چل رہی تحریک اب مغربی یوپی میں زور پکڑتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ 26 جنوری کی کسان ٹریکٹر ریلی میں ہنگامہ کے بعد پولیس کی مظاہرین کے خلاف کارروائی اور غازی پور بارڈر پر کسان لیڈر راکیش ٹکیت کی جذباتی تقریر کے بعد ان کے آبائی ضلع مظفرنگر سمیت پورے مغربی اتر پردیش میں سخت غم و غصہ کی لہر ہے۔

مظفرنگر میں بھارتیہ کسان یونین کے سربراہ اور راکیش ٹکیت کے بڑے بھائی نریش ٹکیت کی کال پر مہاپنچایت میں ایک بڑا جمِ غفیر امنڈ پڑا تھا۔ اب یوپی کے جاٹ اکثریت دیگر شہروں میں بھی اسی طرح کی پنچایتیں ہو رہی ہیں۔ اتوار کے روز ضلع باغپت کے بڑوت میں 84 گاؤں کی طرف بین مذاہب کھاپ پنچایت کا انعقاد کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے اور مودی حکومت کے خلاف غصہ کا اظہار کیا۔


کھاپ پنچایت میں شامل ہونے والے لوگوں بالخصوص نوجوان میں زبردست جوش نظر آیا۔ یہاں کی فضاؤں میں ’ جے جوان، جے کسان‘ کے نعرے بلند ہو رہے تھے۔ نیشنل ہیرالڈ کی ٹیم اس کھاپ پنچایت کی رپورٹنگ کے لئے پہنچی تھی۔ قومی آواز کے سید خرم رضا اور نوجیون کے تسلیم خان نے یہاں کے لوگوں سے بات چیت کی۔ دیکھے ویڈیو:

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 31 Jan 2021, 2:37 PM