بابری مسجد کو ہندو طالبان نے توڑا: راجیو دھون

بابری مسجد اور سپریم کورٹ

مسلم فریق کی طرف سے پیش سینئر ایڈوکیٹ راجیو دھون نے کہا، ’’جس طرح بامیان میں طالبان نے بدھ کے مجسمہ کو تباہ کیا اسی طرح ہندو طالبان نے بابری مسجد کو توڑا ہے ۔‘‘

ایودھیا کے بابری مسجد -رام جنم بھومی معاملہ کے تعلق سے جمعہ کو سپریم کورٹ میں سنواجئی ہوئی۔ سماعت کے دوران سنی وقف بورڈ کی طرف سے سینئر وکیل راجیو دھون نے کہا کہ ’’شیعہ وقف بورڈ کو اس معاملہ میں بولنے کا حق نہیں ہے۔ ‘‘ سپریم کورٹ میں بابری مسجدک معاملہ کی اگلی سماعت 20 جولائی کو ہوگی اور پھر ہر روز اس معاملہ کی سماعت کی جائے گی۔

چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس عبدالنظیر کی بنچ نے جیسے ہی سماعت کا آغاز کیا شیعہ وقف بورڈ کے وکیل نے ایک بار پھر دوہرایا کہ معاملہ کو آئینی بنچ کے سپرد نہیں کیا جائے اور وہ قومی مفاد میں اپنے حق سے دستبردار ہو رہے ہیں۔

شیعہ وقف بورڈ نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرکے کہا تھا کہ وہ اس تنازعہ کا پر امن حل چاہتے ہیں۔ شیعہ وقف بورڈ کا کہنا تھا کہ بابری مسجد کا سرپرست شیعہ ہے، نیز یہ کہ سنی وقف بورڈ یا دیگر کوئی ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کرتا۔

جواب میں مسلم فریق کی طرف سے پیش ہوئے راجیو دھون نے کہا، ’’جس طرح افغانستان کے بامیان میں طالبان نے بدھ کے مجسمہ کو تباہ کر دیا اسی طرح ہندو طالبان نے بابری مسجد کو توڑا ہے۔ شیعہ وقف بورڈ کو اس معاملہ میں بولنے کا کوئی حق نہیں۔‘‘ سنی وقف بورڈ نے کہا کہ اس معاملہ میں یوپی حکومت کی مداخلت غیر ضروری ہے کیوں کہ حکومت نے کہا تھا کہ اس معاملہ میں وہ غیر جانبدار رہے گی۔

معاملہ کی گزشتہ سماعت کے دوران سینئر وکیل راجیو دھن نے کہا تھاکہ ’’اسلام میں مسجد کی اہمیت ہے اور یہ اجتماعیت کا حمل مذہب ہے۔ اسلام میں نماز کہیں بھی ادا نہیں کی جا سکتی۔ جماعت کے ساتھ نماز صرف مسجد میں ادا ہوتی ہے۔ ‘‘ راجیو دھون نے یہ بھی کہا تھا کہ مسجد مذاق کے لئے نہیں بنائی گئی تھی، ہزاروں لوگ یہاں نماز ادا کرتے تھے۔

قبل ازیں یوئی سنٹرل شیعہ بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی نے کہا، ’’ایودھیا میں نہ تو کبھی مسجد تھی اور نہ کبھی ہو سکتی ہے۔ وہ بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے اور وہاں صرف مندر بنایا جائے گا۔ بابر سے ہمدردری رکھنے والوں کی قسمت میں ہار لکھی ہے۔‘‘

واضح رہے کہ یہ بابری مسجد رام جنم بھومی تنازعہ تقریباً 68 سالوں سے عدالت میں زیر غور ہے۔ اس تنازعہ سے وابستہ 9 ہزار صفحات پر مشتمل دسزاویزات اور 90 ہزار صفحات پر درج گواہیاں پالی، فارسی، سنسکرت اور عربی سمیت مختلف زبانوں میں درج ہیں۔ سنی وقف بورڈ نے ان دستاویزات کے ترجمہ کی اپیل کی تھی۔

بابری مسجد معاملہ میں الہ آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے 2.77 ایکڑ متنازعہ زمین کا ایک تہائی حصہ ہندو، ایک تہائی مسلم اور ایک تہائی رام للّا کو دے دیا تھا۔ ہائی کورٹ کی آئینی بنچ نے 1994 کے فیصلہ پر انحصار کرتے ہوئے ہندؤوں کے حق کو موزوں قرار دیا تھا۔

سب سے زیادہ مقبول