بابری مسجد فیصلہ: چیف جسٹس گگوئی نے یو پی کے ’چیف سکریٹری‘ اور ’ڈی جی پی‘ کو طلب کیا

چیف جسٹس رنجن گگوئی نے اترپردیش کے چیف سکریٹری راجندر کمار تیواری اور ڈائریکٹر جنرل پولس او پی سنگھ کو بلا کر ریاست کے امن و قانون کے بارے دریافت کیا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: ایودھیا کے بابری مسجد رام جنم بھومی معاملے میں جلد ہی فیصلے آنے کے پیش نظر، ملک کے چیف جسٹس رنجن گگوئی نے اترپردیش کے چیف سکریٹری راجندر کمار تیواری اور ڈائریکٹر جنرل پولس او پی سنگھ کو بلاکر ریاست کے امن و قانون کے بارے دریافت کیا۔

سپریم کورٹ کے احاطے میں چیف جسٹس کے چیمبر میں گگوئی کے ساتھ ان افسران کی میٹنگ میں فیصلہ سنانے والی بینچ کے چاروں جج اور ریاستی حکومت کے دیگر اعلی عہدیدار بھی موجود تھے۔

بتایا جاتا ہے کہ گگوئی نے ریاست کے امن و امان کے بارے میں تفصیل سے معلومات حاصل کی ۔ ایودھیا کے متنازعہ مقام پر قبضے سے متعلق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں آئینی بینچ نے سماعت 17 اکتوبر کو مکمل کرلی تھی اور اگلے ہفتہ اس مشہور معاملے کا فیصلہ آنے کا امکان ہے۔

اس فیصلے سے پہلے ، اکھل بھارتیہ سنت سمیتی ، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور وشوا ہندو پریشد نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ فیصلے کو شکست و فتح یا ہندو مسلم فرقہ وارانہ کی صورت حال میں بدلنے نہیں لیں گے اور نہ ہی کسی کو کوئی چڑھانے یا اشتعال انگیز والے بیانات دیں گے۔ مسلم سماج کی جانب سے ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ، سنی وقف بورڈ وغیرہ نے بھی عدالت کے فیصلے کا مکمل احترام کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

Published: 8 Nov 2019, 5:11 PM