بابری مسجد: سپریم کورٹ کے فیصلے کا مسلمانوں نے کیا احترام، ہندو ہوئے ناراض

بی جے پی لیڈروں اور ہندو فریق نے بابری مسجد معاملہ کے جنوری تک ملتوی کئے جانے پر مایوسی کا اظہار کیا جبکہ مسلم فرق نے فیصلہ کا احترام کرتے ہوئے استقبال کیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ایودھیا: بابری مسجد-رام جنم بھومی معاملے میں سپریم کورٹ کے روز بہ روز سماعت کی تاریخ بڑھانے کے فیصلے سے وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) اور سادھو سنتوں کے درمیان مایوسی پیدا ہوگئی ہے۔

وشو ہندو پریشد اور سادھو سنت بابری مسجد-رام جنم اراضی احاطے میں مندر کی تعمیر میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ روز بابری مسجد-رام مندر کے متنازعہ معاملے کی سماعت جنوری 2019 تک ملتوی کر دیا ہے۔ عدالت جنوری میں اس معاملے کی سماعت کی نئی تاریخ طے کرے گی۔

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) لیڈروں نے مندر کی تعمیر میں تاخیر کےلئے کانگریس کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ریاست کے نائب وزیر اعلی کیشو پرساد موریہ نے کہا کہ اچھا ہوتا اگر عدالت اس معاملے کی سماعت جلد کرتی۔ انہوں نے مزیدکہا کہ اس معاملے میں تاخیر کرنا اچھا اشارہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کپِل سبل اور اب پرشانت بھوشن سپریم کورٹ میں سماعت کے معاملے میں تاخیر کے لئے ذمہ دار ہیں۔ کانگریس ہمیشہ اس معاملے پر فیصلے میں تاخیر کرنا چاہتی ہے اور وہ اس میں کامیاب ہوئی ہے۔

کٹیار نے کہا کہ اس سے واضح ہے کہ سماعت میں تاخیر ہونے سے اس کا فیصلہ سال 2019 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات سے پہلے نہیں آئے گا۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے۔ اس سے لوگوں کے درمیان ناراضگی بڑھے گی۔ ملک کے عوام چاہتے ہیں کہ ایودھیا میں عالیشان رام مندر کی تعمیر جلد سے جلد ہو۔

اس دوران وی ایچ پی نے مندر کی تعمیر کے لئے ایک قانون بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ وی ایچ پی ترجمان شرد شرما نے کہا رام مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کرنا مرکز کی بی جے پی حکومت کا کام ہے۔ اس معاملے کی تاخیر سے لوگوں میں غلط پیغام جائے گا۔ اس دوران مہنت دھرم داس نے کہا کہ مرکزی حکومت کسی طرح کا قانون لانے کے اہل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت کو جنوری میں سماعت سے پہلے ہندووں کو موقع دینا چاہئے تھا۔ سنت نے کہا، عدالت نے معاملے کو ملتوی کرنے میں کچھ منٹ لگائے۔ متعلقہ فریقوں کو دو منٹ کا وقت بھی نہیں دیا۔

دریں اثنا بابری مسجد معاملے کے فریق اقبال انصاری نے عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا اور سپریم کورٹ پر اپنا اعتماد ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم عدالت کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں کیونکہ ہمیں جلدی نہیں ہے۔ عدالت کو اپنا وقت لینا چاہئے کیونکہ یہ معاملہ بہت اہم ہے۔‘‘ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) کے رکن اور وکیل ظفریاب جیلانی نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کیا۔