بابری مسجد تنازعہ، اب سماعت کے ساتھ ثالثی بھی چلتی رہے گی

ایودھیا معاملہ میں سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے 18 ستمبر کو کہا کہ دونوں فریقین کی طرف سے بحث کا عمل 18 اکتوبر تک ختم ہو جانے کی امید ہے اور امکان ہے کہ فیصلہ نومبر میں آ جائے۔

قومی آواز گرافکس
قومی آواز گرافکس
user

قومی آوازبیورو

ایودھیا تنازعہ پر سپریم کورٹ میں روزانہ سماعت جاری ہے اور آج چیف جسٹس رنجن گگوئی کی قیادت والی پانچ رکنی آئینی بنچ نے فریقین کے لیے یہ راستہ بھی کھلا چھوڑ دیا ہے کہ وہ چاہیں تو ثالثی کے ذریعہ اس قدیم مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ’’رام جنم بھومی-بابری مسجد اراضی تنازعہ پر متعلقہ فریق اگر ثالثی کے ذریعہ حل نکالنا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں۔‘‘

چیف جسٹس گگوئی کے اس بیان کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ اس معاملہ پر اب سماعت اور ثالثی ساتھ ساتھ چلیں گی۔ ثالثی کی بات اچانک سامنے آنے سے سیاسی حلقوں میں سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس و بی جے پی کے لئے اچانک جمعیۃ علما ء ہند کے دونو ں دھڑوں کے رہنماؤں کے دلوں میں جو نرم گوشہ پیدا ہوا اس کی وجہ ایودھیا تنازعہ ہو سکتا ہے۔ واضح رہے 30 اگست کو مولانا ارشد مدنی کی آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت سے دہلی کے کیشو کنج میں ملاقات ہوئی تھی اس کے بعد ان کے بھتیجے اور جمعیۃ کے دوسرے دھڑے کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے اس ملاقات کا استقبال کیا تھا۔ مولانا ارشد نے اپنی اس ملاقات کے بعد واضح طور پر اس بات سے انکار کیا تھا کہ بابری مسجد کے تعلق سے ان کی کوئی بات ہوئی ہے۔ اس سے قبل آر ایس ایس کے سینئر رہنما اندریش کمار بھی دیوبند گئے تھے اور دارالعلوم کے مہتم سے بھی ملاقات کی تھی۔ کچھ ذرائع یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ثالثی کا جو عمل ختم ہوا تھا اس ک وجہ یہ تھی کہ جمعیۃ علما ء اور وشو ہندو پریشد اپنے موقف پر اڑے ہوئے تھے اور دونوں اپنے موقف میں کوئی لچک نہیں پیدا کر رہے تھے۔

دراصل کچھ مسلم اور ہندو فریق نے ایودھیا معاملہ میں ایک بار پھر ثالثی کا عمل شروع کرنے کی درخواست کی تھی اور بدھ کے روز چیف جسٹس رنجن گگوئی نے اس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’عدالت کو سپریم کورٹ کے سابق جج ایف ایم کلیف اللہ کا ایک خط ملا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کچھ فریق نے انھیں ثالثی کا عمل پھر شروع کرنے کے لیے خط لکھا ہے۔‘‘ واضح رہے کہ کلیف اللہ نے ایودھیامعاملہ میں ثالثی کے مقرر سہ رکنی پینل کی قیادت کی تھی۔ آئینی بنچ نے کہا کہ اراضی تنازعہ کا حل نکالنے کے لیے روزانہ سماعت کی کارروائی بہت آگے پہنچ گئی ہے اور یہ جاری رہے گی۔ حالانکہ عدالت نے کہا کہ جسٹس کلیف اللہ کی قیادت میں ثالثی کا عمل اب بھی جاری رہ سکتا ہے اور اس کی کارروائی خفیہ رکھی جائے گی۔

آج ایودھیا معاملہ پرسپریم کورٹ میں کارروائی کے دوران پانچ رکنی آئینی بنچ نے یہ بھی بتایا کہ 18 اکتوبر تک دونوں فریق کے ذریعہ بحث تکمیل کو پہنچ سکتی ہے۔ چونکہ ہندو فریق کے دلائل سنے جا چکے ہیں اور اب مسلم فریق کے وکیل اپنی بات رکھ رہے ہیں، اس لیے قوی امکان ہے کہ اکتوبر ماہ میں سماعت مکمل ہو جائے۔ دہائیوں پرانےبابری مسجد-رام مندر اراضی تنازعہ کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فیصلہ نومبر سے پہلے آ سکتا ہے۔سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے اس طرح کا اشارہ دیا ہے۔

بدھ کے روز سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سبھی فریقین سے پوچھا کہ وہ کتنے کتنے دن میں اپنی بحث پوری کر لیں گے۔ آئینی بنچ کی صدارت کر رہے جسٹس گگوئی نے کہا کہ اگر ایک بار سبھی فریق یہ واضح کر دیتے ہیں کہ وہ کتنا وقت لیں گے تو ہمیں بھی پتہ چل جائے گا کہ فیصلہ لکھنے کے لیے کتنا وقت ملے گا۔

قابل ذکر ہے کہ جسٹس رنجن گگوئی اسی سال 17 نومبر کو سبکدوش ہو رہے ہیں، لہٰذا آئینی بنچ دہائیوں قدیم اس تنازعہ پر اس سے پہلے فیصلہ سنا سکتی ہے۔ مسلم فریق کی طرف سے سینئر وکیل راجیو دھون نے بحث کی شروعات کرتے ہوئے کہا تھا کہ متنازعہ مقام سے ملے کھمبوں پر پائے گئے نشانوں سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ وہ اسلامی نہیں ہیں۔ دھون نے کہا کہ مسجدیں صرف مسلمانوں کے ذریعہ نہیں بنائی گئی تھیں۔ تاج محل کی تعمیر تنہا مسلمانوں نے نہیں کی تھی۔ اس میں مسلم اور ہندو دونوں طبقہ کے مزدور شامل تھے۔