بابری مسجد: مسلم فریق کے وکیل کو دھمکانے والے پروفیسر کی معذرت، ہتک عزت کا معاملہ ختم

سپریم کورٹ نے مسلم فریق کی پیروی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ راجیو دھون کو دھمکی دینے والے تمل ناڈو کے پروفیسر این شنموگم کے معافی مانگ لینے کے بعد ان کے خلاف ہتک عزت کا معاملہ ختم کر دیا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ایودھیا معاملے میں مسلم فریق کی پیروی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ راجیو دھون کو دھمکی دینے والے تمل ناڈو کے پروفیسر این شنموگم کے معافی مانگ لینے کے بعد ان کے خلاف ہتک عزت کا معاملہ ختم کر دیا۔

چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت میں جمعرات کو جب یہ معاملہ سماعت کے لئے آیا تو انہوں نے پوچھا ”آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ آپ 88 برس کے ہوگئے ہیں۔“ اس پر شنموگم نے اپنے رویے کے لئے عدالت سے معافی مانگی۔ ان کی طرف سے وکیل وی ویل مروگن عدالت عظمی میں موجود تھے۔

دھون کی طرف سے عدالت میں پیش سینئر وکیل کپل سبل نے کہا ”میں کسی کے خلاف کسی طرح کی کارروائی نہیں چاہتا۔ لیکن اس سلسلے میں سب کو پیغام جانا چاہئے۔“ معاملے کی سماعت کے بعد عدالت نے ہتک عزت کی کارروائی کو ختم کر دیا۔

خیال رہے کہ شنموگم نے راجیو دھون کو خط لکھ کر ان پر مسلمانوں کی طرف سے پیروی کرنے اور ایودھیا پر ان کے حق کا دعوی کرکے اپنے اعتقاد کے ساتھ وشواش گھات کرنے کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ”ہندو آپ کو (دھون کو) آپ کے موجودہ رویے کے لئے کبھی معاف نہیں کریں گے۔ بھگوان کے فیصلے کا انتظار کریں۔“

Published: 19 Sep 2019, 8:10 PM