بابری مسجد: ثالثی کمیٹی میں روی شنکر کی شمولیت سے یہ عمل سنجیدہ نہیں رہا، امام بحاری

احمد بخاری نے سپریم کورٹ کے اقدام کا خیرمقدم کیا، تاہم کہا کہ ثالثی کمیٹی میں آر ٹ آف لیونگ کے بانی شری شری روی شنکر کی شمولیت نے اس عمل کی سنجیدگی کوختم کردیا ہے اور اس کی کامیابی مشکوک ہوگئی ہے۔

6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کے اوپر کھڑے ہوئے ہندو کار سیوک
6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کے اوپر کھڑے ہوئے ہندو کار سیوک
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: شاہی امام مولانا سید احمد بخاری نے بات چیت سے بابری مسجد تنازعے کو حل کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے اقدام کا خیرمقدم کیا ہے تاہم کہا کہ ثالثی کمیٹی میں آر ٹ آف لیونگ کے بانی شری شری روی شنکر کی شمولیت نے اس عمل کی سنجیدگی کوختم کردیا ہے اور اس کی کامیابی مشکوک ہوگئی ہے۔

مولانا بخاری نے یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ ہم بات چیت سے مسئلے کو حل کرنے کے خلاف نہیں ہیں۔ لیکن سپریم کورٹ نے جو کمیٹی تشکیل دی ہے اس میں روی شنکر کی شمولیت پر ہمیں اعتراض ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جو شخص جانبدار رہا ہو وہ ثالث کیسے ہو سکتا ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ روی شنکر کا موقف سب کے سامنے ہے۔ وہ مسلمانوں سے بابری مسجد کی زمین سے دستبردار ہو جانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں ۔ مولانا بخاری نے مسلم فریقوں سے بھی سوال کیا کہ وہ ایک جانبدار شخص کے ساتھ بات چیت کے لیے کیسے تیار ہو گئے؟

سپریم کور ٹ کے فیصلہ کاخیر مقدم، شری شری روی شنکر پراعترا ض: حسین دلوائی

ادھر پارلیمانی رکن حسین دلوائی نے بھی شری شری روی شنکر کو شامل معاملہ کرنے پر اعتراض کیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ وہ یکطرفہ سوچ رکھنے والے ایک ضدی انسان ہیں۔

اپنے جاری بیان میں انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ شری شری روی شنکر کے ماضی کے متنازعہ بیانات کو لوگوں نے کبھی پسند نہیں کیا۔ اس پس منظر میں عدالت کو غور کرنا چاہئے کہ ان کی وجہ سے بات بنے گی یا بگڑ سکتی ہے۔ دلوائی نے کہا کہ ان کی جگہ کسی غیر جانب دار شخص کو شامل کرنا چاہیے جو دونوں سماج کے مفادات کو عزیز رکھے دیش اور مروجہ قانون و ہندو مسلم اتحاد کو برقراری رجھتے ہوئے کوئی حل نکل سکے۔

انہوں نے کہا کہ 9 سال قبل الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصل سے قبل سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس ہیمنت گوگھلے نے بھی یہی مشورہ دیا تھا ، اب سپریم کورٹ نے بھی یہی مشورہ دیا ہے جو استقبال کے قابل ہے۔