بابری مسجد معاملہ: متنازعہ زمین مسلم فریق کو نہیں سونپی جاسکتی، پنردھار سمیتی کی دلیل

سمیتی کی جانب سے پیش وکیل پی این مشرا نے دلیل دی کہ مسجد کو مندر کے اوپر بنایا گیا تھا، کیونکہ مندر کے باقیات اس جگہ سے ملے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مندر کو تباہ کرکے مسجد بنائی گئی تھی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ میں میں ایودھیا تنازعہ کی جمعرات کو پندرھویں دن کی سماعت کے دوران رام جنم بھومی پنردھار سمیتی نے دلیل پیش کی کہ متنازعہ زمین مسلم فریق کو نہیں دی جاسکتی کیونکہ وہ یہ ثابت نہیں کر پایا ہے کہ بابر نے ہی مسجد بنوائی تھی۔

سمیتی کی جانب سے پیش وکیل پی این مشرا نے چیف جسٹس رنجن گگوئی کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بنچ کے سامنے یہ دلیل پیش کی۔ مشرا نے دلیل دی کہ یہ تو واضح ہے کہ مسجد کو مندر کے اوپر بنایا گیا تھا، کیونکہ مندر کے باقیات اس جگہ سے ملے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مندر کو تباہ کرکے مسجد بنائی گئی تھی۔

انہوں نے دلیل دی کہ بابر نے مسجد کی تعمیر نہیں کرائی تھی اور نہ وہ اس متنازعہ زمین کا مالک تھا۔ جب وہ زمین کا مالک ہی نہیں تھا توسنی وقف بورڈ کا معاملے میں دعوی ہی نہیں بنتا۔ مسلم فریق یہ ثابت نہیں کر پائے تھے کہ مسجد بابر نے بنوائی تھی۔ مشرا نے الہ آباد ہائی کورت کے حوالے سے کہا کہ یہ ثابت نہیں ہو پایا ہے کہ متنازعہ زمین پر مندر توڑ کر مسجد کی تعمیر بابرنے کرائی تھی یا اورنگ زیب نے؟

انہوں نے کہا، ’’بابر متنازعہ زمین کا مالک نہیں تھا۔ ایسے میں میرا کہنا ہے کہ جب کوئی ثبوت ہی نہیں ہے تو مسلم فریق کو متنازعہ زمین پر قبضہ یا حصہ داری نہیں دی جاسکتی۔ آئینی بنچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس ایس اے بوبڑے، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبدالنظیر شامل ہیں۔

Published: 29 Aug 2019, 8:10 PM