بابری مسجد انہدام: خصوصی عدالت آج سنائے گی فیصلہ

بابری مسجد انہدامیں معاملہ پر آج آنے والے فیصلہ کو لے کراتر پردیش سمیت پورے شمالی ہندوستان میں ایک تناؤ کا ماحول ہے۔

بابری مسجد، فائل تصویر
بابری مسجد، فائل تصویر
user

تنویر

بابری مسجد انہدام معاملہ میں فیصلہ کی گھڑی قریب آ گئی ہے اور آج لکھنؤ سی بی آئی کی خصوصی عدالت اپنا تاریخی فیصلہ سنانے والی ہے۔ بابری مسجد کو منہدم کیے جانے پر اپنا فیصلہ خصوصی عدالت نے محفوظ رکھا تھا اور اعلان کیا تھا کہ 30 ستمبر کو فیصلہ سنایا جائے گا، اور اب فیصلہ سے پہلے ایودھیا کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ اس فیصلہ کی وجہ سے اتر پردیش سمیت پورے شمالی ہندوستان میں تناؤ کا ماحول ہے۔

ایودھیا میں کوئی خوشگوار واقعہ سرزد نہ ہو، اس لیے سیکورٹی انتظامات کافی سخت کر دیے گئے ہیں۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق حفاظتی انتظامات اس قدر سخت ہیں کہ کوئی پرندہ بھی پر نہیں مار پائے گا۔ اس دوران ایودھیا کے سبھی داخلی پوائنٹس پر سخت چیکنگ کا بھی انتظام کیا گیا ہے اور اسے مہم کی شکل دے دی گئی ہے۔ ٹو وہیلر کے ساتھ ساتھ چار پہیہ گاڑیوں کی بھی زبردست چیکنگ کی جا رہی ہے اور اس کے بغیر ایودھیا میں داخلہ ممکن نہیں ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ پی ایس سی سول پولس کے ساتھ ساتھ سادہ وردی میں بھی سیکورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ سیکورٹی ایجنسیاں اور خفیہ ایجنسیوں کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ فیصلے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ایودھیا کے ڈی آئی جی/ایس ایس پی دیپک کمار نے کہا کہ کل (30 ستمبر) کا دن تاریخی ہوگا۔ ایسے میں ایودھیا کی سیکورٹی بھی کافی اہم ہے۔ 30 ستمبر کو ایودھیا میں خصوصی چیکنگ مہم چلائی جائے گی۔ ایودھیا میں سادے کپڑوں میں بھی پولس کے جوان تعینات رہیں گے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ کووڈ-19 پروٹوکول اور دفعہ 144 پر سختی سے عمل کرایا جائے گا۔ کسی بھی حال میں ایودھیا میں بھیڑ اکٹھا نہیں ہونے دی جائے گی۔

Published: 29 Sep 2020, 6:29 PM
next