بابری مسجد انہدام کیس : کچھ اہم حقائق پر ایک نظر

عدالت عظمیٰ کے حکم سے پہلے جس حکم سے تقریباً ٹھہری ہوئی سماعت میں تیزی آئی وہ 8 دسمبر 2011 کا الہ آباد ہائی کورٹ کا حکم تھا، جس میں رائے بریلی کیس کی ہفتہ وار سماعت کا حکم دیا گیا تھا

بابری مسجد انہدام کیس کے سلسلہ میں لکھنؤ میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت آج فیصلہ سنانے جا رہی ہے
بابری مسجد انہدام کیس کے سلسلہ میں لکھنؤ میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت آج فیصلہ سنانے جا رہی ہے
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: بابری مسجد انہدام کیس میں لکھنؤ کی خصوصی سی بی آئی عدالت آج (بدھ، 30 ستمبر 2020) کو فیصلہ سنانے جا رہی ہے۔ اس معاملے میں بی جے پی کے سینئر رہنما ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی، کلیان سنگھ اور دیگر اہم ملزم ہیں۔ عدالت نے تمام ملزمان کو ہدایت دی ہے کہ فیصلہ سنانے کے وقت عدالت میں موجود رہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق خصوصی عدالت 11 بجے اپنا فیصلہ سنائے گی۔

آئیے اس معاملے سے متعلق کچھ اہم حقائق پر روشنی ڈالتے ہیں:

بابری مسجد انہدام کیس میں مقدمے کی سماعت کرنے والے خصوصی جج ایس کے یادو گزشتہ سال 30 ستمبر کو ریٹائر ہونے والے تھے، لیکن سپریم کورٹ نے سبکدوشی کی اجازت نہیں دی اور فیصلہ آنے تک ان کی مدت کار میں توسیع کرنے کے احکامات جاری کر دئے۔

سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق، یوپی حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کیا اور فیصلہ آنے تک ان کی مدت کار میں توسیع کر دی۔ مقدمے کی سماعت کے دوران جج نے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی اور تحفظ کا بھی مطالبہ کیا۔ سپریم کورٹ نے یوپی حکومت کو ہدایت دی کہ انہیں سکیورٹی فراہم کی جائے۔

ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کے معاملے میں 28 سال بعد فیصلہ سنایا جائے گا۔ یہ معاملہ کے تصفیہ کے لئے سپریم کورٹ کی آخری مقرر شدہ آخری تاریخ ہے۔ اس طویل عرصے سے چل رہی قانونی چارہ جوئی نے اس وقت رفتار پکڑی جب سپریم کورٹ نے اس کے حل کے لئے حد مدت مقرر کر دی تھی۔

سپریم کورٹ نے اپریل 2017 میں دو سال کے اندر کیس کو نمٹانے اور فیصلہ سنانے کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد، اس مدت میں تین بار توسیع کی گئی اور آخری تاریخ 30 ستمبر 2020 طے کی گئی۔ اگر ہم اس معاملے پر نگاہ ڈالیں تو، اس واقعہ کی پہلی ایف آئی آر اسی دن 6 دسمبر 1992 کو شری رام جنم بھومی صدر فیض آباد تھانہ پولیس اسٹیشن پر یمبدا ناتھ شکلا نے درج کرائی گھی۔ دوسری ایف آئی آر رام جنم بھومی پولیس چوکی کے انچارج گنگا پرساد تیواری کی طرف سے درج کرائی گئی تھی۔

اس معاملے میں مختلف تاریخوں پر کل 49 ایف آئی آر درج کرائی گئیں۔ بعد میں اس کیس کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کردی گئیں۔ 4 اکتوبر 1993 کو سی بی آئی نے تحقیقات کی اور 10 جنوری 1996 کو 9 دیگر ملزمان کے خلاف پہلی چارج شیٹ اور 40 دیگر ملزمان کے خلاف چارج شیٹ دائر کی۔ 28 سالوں میں 17 ملزمان کی موت ہو گئی، اب 32 ملزمان باقی ہیں، جن کا فیصلہ آنے والا ہے۔

طویل عرصے سے اس کیس کے زیر التوا رہنے کی وجہ بھی وہی وجوہات تھیں جو ہر ہائی پروفائل کیس میں ہوتی ہیں۔ ملزم نے نچلی عدالت کے احکامات اور سرکاری نوٹیفیکیشن کو ہر سطح پر اعلی عدالت میں چیلنج کیا جس کی وجہ سے مرکزی کیس کی سماعت میں تاخیر ہوتی رہی۔

ملزم موریسر ساوے نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر کے معاملہ سی بی آئی کو سونپنے کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا۔ ہائی کورٹ کا فیصلہ کئی سالوں سے عرضی کے زیر التوا رہنے کے بعد 2001 میں آیا، جس میں اس نوٹیفکیشن کو برقرار رکھا گیا۔ ادھر، الزامات طے ہونے تک مختلف معاملات پر ملزمان نے ہائی کورٹ کے دروازے کھٹکھٹائے، جس کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔

پہلے یہ مقدمہ دو جگہ چل رہا تھا۔ رائے بریلی عدالت میں آٹھ ملزمان کے خلاف بی جے پی کے سینئر رہنماؤں ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی کے خلاف اور باقی کے خلاف لکھنؤ کی خصوصی عدالت میں۔ رائے بریلی میں جن آٹھ رہنماؤں کے خلاف مقدمہ زیر التوا تھا ان پر سازش کے کوئی الزامات نہیں تھے۔

ملزمان پر سازش کے الزام میں مقدمہ چلانے کے لئے سی بی آئی کو ایک طویل قانونی جنگ لڑنی پڑی اور آخر کار 19 اپریل 2017 کے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد 30 مئی 2017 کو ایودھیا کی خصوصی عدالت نے ان کے خلاف سازش کے الزامات مرتب کیے اور تمام ملزمان کے خلاف ایک مشترکہ چارج شیٹ کے مطابق مقدمے کی سماعت لکھنؤ کی خصوصی عدالت میں شروع ہوئی۔

عدالت عظمیٰ کے حکم سے پہلے جس حکم نے تقریباً ٹھہری ہوئی سماعت کی رفتار کو تیزی فراہم کی وہ 8 دسمبر 2011 کا الہ آباد ہائی کورٹ کا حکم تھا، جس میں ہائی کورٹ نے رائے بریلی کے کیس کی ہفتہ وار سماعت کا حکم دیا تھا۔ لیکن اصل رفتار سپریم کورٹ کے روزانہ سماعت کے حکم سے آئی۔ اس کے باوجود، دو سالوں میں کیس کا تصفیہ نہیں ہوا اور سپریم کورٹ نے سماعت کرنے والے جج کی درخواست پر ڈیڈ لائن میں تین بار توسیع کر دی۔ 19 جولائی 2019 کو اس کی مدت 9 ماہ اور 8 مئی 2020 تک 31 اگست تک بڑھا دی گئی، اور آخر کار 19 اگست 2020 کو تیسری بار ایک ماہ کی مدت میں توسیع کرتے ہوئے فیصلہ 30 ستمبر تک سنا دینے کا حکم دیا گیا۔

Published: 30 Sep 2020, 8:49 AM
next