بابری مسجد معاملہ: سپریم کورٹ سنائے گا فیصلہ یا ثالثی سے نکلے گا حل! تجسس برقرار

سپریم کورٹ نے ثالثی کے دوسرے دور کا اعلان تو کردیا لیکن تا حال اس کا کوئی وقت مقرر نہیں کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ وقت کے حوالے سے لوگوں میں تجسس پایا جاتا ہے

قومی آواز گرافکس
قومی آواز گرافکس

قومی آوازبیورو

بابری مسجد - رام جنم بھومی مقدمہ میں ثالثی کے دوسرے دور نے 70 سالہ قدیمی اس تنازعہ کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے جس کے بعد اس معاملے میں اہم فریقین نے مفاہمت کے بجائے عدالتی فیصلے پر زور دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ثالثی کمیٹی اس معاملہ کو اس وقت تک حل نہیں کر سکتی جب تک تمام فریقوں میں اتفاق رائے نہیں ہوتی۔

سپریم کورٹ نے ثالثی کے دوسرے دور کا اعلان تو کردیا لیکن تا حال اس کا کو ئی وقت مقرر نہیں کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ وقت کے حوالے سے لوگوں میں تجسس پایا جاتا ہے۔ کیونکہ 18 اکتوبر کو عدالت عظمیٰ نے سماعت مکمل کرنے کے لئے ڈیڈ لائن متعین کرنے کے بعد اس کی تجویز پیش کی تھی۔

ثالثی کی اس تجویز کے بعد مسلم فریقین کے حوالہ سے کئی طرح کی خبریں منظر عام پر آئیں، مثال کے طور پر میڈیا کے ایک گروپ نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ سنی وقف بورڈ مسجد سے دستبردار ہو رہا ہے، تاہم بعد میں بورڈ کے ارکان اور وکلا نے اس خبر کو بے بنیاد قرار دیا۔ بعد میں یہ کہا گیا کہ سنی وقف بورڈ کے چیئرمین ظفر احمد فاروقی دراصل دستببردار ہونا چاہتے ہیں اور انہوں نے اس ضمن میں سپریم کورٹ میں حلف نامہ بھی پیش کر دیا ہے۔ ادھر سنی وقف بورڈ کے وکیل نے عدالت میں مقدمہ کی سماعت مکمل کرنے کو ترجیح دی ہے۔

ادھر ہندو پارٹیاں پہلے ہی سے متنازعہ مقام کو رام کی جائے پیدائش قرار دے کر رام مندر تعمیر کا عزم کر رہی ہیں۔ یہ بات اور ہے کہ ہندو پارٹیوں میں خود بھی اتحاد نہیں ہے کیونکہ ایک دوسری ہندو پارٹی ’نرموہی اکھاڑہ‘ اس مقام کو ’سیتا رسوئی‘ قرار دیتی ہے۔ تاہم تمام ہندو پارٹیاں مسجد کی پر زور مخالفت کرتی ہیں۔ ان تمام حقائق کی بنیاد پر یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ ہندو پارٹیوں نے بابری مسجد معاملہ میں ثالثی کے دوسرے مرحلے کے دوران علیحدگی اختیار کرلی ہے۔ ہندو پارٹیوں کا کہنا ہے کہ اب مفاہمت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔

ہندو فریق کے ایک ذریعہ نے کہا، ’’ہم دیکھ سکتے ہیں کہ وقف بورڈ کی رائے میں اختلاف ہے اور ثالثی کی حمایت کرنے والے دھڑے کو کئی سالوں سے اس معاملے میں شامل اہم مسلم جماعتوں کی حمایت حاصل نہیں ہو رہی ہے۔ ہمارا موقف ہے کہ اب ثالثی کی کسی بھی کوشش کے بعد مفاہمت کے بجائے مزید پیچیدگیاں ہی پیدا ہوں گی۔ رام للّا کے وکیلوں نے عدالت عظمیٰ کو صاف طور پر بتا دیا ہے کہ انہیں ثالثی میں حصہ لینے میں دلچسپی نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ 2010 میں الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ میں رام للّا، نرموہی اکھاڑہ اور وقف بورڈ کے درمیان 2.77 ایکڑ متنازعہ اراضی کو برابر حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ادھر رام للّا اور نرموہی اکھاڑہ کے مابین ٹکراؤ ہمیشہ سے برقرار رہا ہے کیوں کہ ان میں سے کوئی بھی فریق متنازعہ مقام پر اپنے دعوے پر کوئی سمجھوتہ نہیں چاہتا۔

Published: 22 Oct 2019, 3:56 PM