بابری مسجد معاملہ: سپریم کورٹ کا فیصلہ سنانے کا فیصلہ، وزیر اعظم کی امن و اتحاد کی پیل

چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جج ایس اے بوبڈے، جج ڈی وائی چندر چوڑ، جج اشوک بھوشن اور جج ایس عبدالنذیر کی آئینی بنچ آج صبح ساڑھے دس بجے اپنا فیصلہ سنائے گی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: سپریم کورٹ ایودھیا کے بابری مسجد رام جنم بھومی زمین تنازعہ میں آج تاریخی فیصلہ سنانے جا رہا ہے۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جج ایس اے بوبڈے، جج ڈی وائی چندر چوڑ، جج اشوک بھوشن اور جج ایس عبدالنذیر کی آئینی بنچ صبح ساڑھے دس بجے اپنا فیصلہ سنائے گی۔

سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر گزشتہ جمعہ کی شام ایک نوٹس جاری کرکے اس بارے میں معلومات دی گئی ہے۔ عام طورپر سنیچر کو سپریم کورٹ میں چھٹی ہوتی ہے اور ایسی امید ظاہر کی جارہی تھی کہ معاملہ میں 13سے 15نومبر کے بیچ فیصلہ آئے گا، لیکن غیرمتوقع طورپر فیصلے کے لئے کل کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ آئینی بنچ نے 40 دن کی سماعت کے بعد گزشتہ 17اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

اس سے پہلے آج چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے اترپردیش کے چیف سکریٹری اور ڈائرکٹر جنرل آف پولیس سے ملاقات کرکے ایودھیا اور ریاست کے دیگر حصوں میں امن و قانون نظام کا جائزہ لیا تھا۔ ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ رجسٹری اور چیف جسٹس نے بابری مسجد - رام جنم بھومی زمین متنازعہ معاملہ پر ایودھیا اور ریاست کے دیگر حساس مقامات میں صورتحا ل کا جائزہ لیا۔ ریاست کے اعلی حکام نے جج گوگوئی کو بتایا کہ وہ پوری طرح تیار ہیں اور امن وقانون قائم رکھنے کے لئے تمام ضروری اقدامات کئے گئے ہیں۔

بابری مسجد فیصلہ: یوپی کے تمام اسکول اور کالج بند رکھنے کا اعلان

ایودھیا کے بابری مسجد رام جنم بھومی تنازعہ پر سنیچر کی صبح 10.30 بجے فیصلہ سنائے جانے سے قبل اترپردیش کی یوگی حکومت نے ایک احتیاطی اقدام لیتے ہوئے ریاست بھر کے اسکول، کالج، تعلیمی اور تربیتی مراکز بند رکھنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، یوپی میں 9 سے 11 نومبر تک تمام اسکولوں اور کالجوں میں تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔

اتر پردیش کی ہی طرح مدھیہ پردیش میں بھی تمام سرکاری اور نجی اسکولوں کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ریاست میں شراب کی بھی تمام دکانیں بند رکھی جائیں گی۔

یوپی میں ایک ماہ سے حفاظتی تیاریاں: یوپی ڈی جی پی

اترپردیش کے ڈی جی پی او پی سنگھ کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ ایک ماہ سے سیکیورٹی کے انتظامات چاک و چوبند کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے نگرانی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں۔

سپریم کورٹ کے فیصلہ کا احترام کریں گے: اقبال انصاری

بابری مسجد معاملہ کے مدعی اقبال انصاری نے سنیچر کے روز سپریم کوٹ کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے سے قبل کہا ہے کہ عدالت عظمیٰ کا جو بھی فیصلہ ہوگا اس کا احترام کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیصلہ کا تمام متعلقین کو بھی قبول کرنا چاہئے۔ انہوں نے اس موقع پر لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی بھی اپیل کی۔

فیصلہ ہار یا جیت نہیں ہوگا: وزیر اعظم مودی

بابری مسجد معاملہ میں فیصلہ سنائے جانے سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا جوبھی فیصلہ ہوگا وہ کسی کی ہار یا جیت نہیں ہوگا۔ اپنے ٹوٹ میں وزیر اعظم مودی نے کہا، ایودھیا پر سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ آئے گا وہ کسی کی فتح یا شکست نہیں ہوگا۔ ملک کے باشندگان سے میری اپیل ہے کہ ہم سب کی ترجیح یہ ہونی چاہئے کہ یہ فیصلہ ہندوستان کی امن، اتحاد اور خیر سگالی کی عظیم روایت کو مزید تقویت بخشے۔‘‘

وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں تمام طبقات کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے کے لئے کی جانے والی کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا، ’’ایودھیا پر کل سپریم کورٹ کا فیصلہ آ رہا ہے۔ پچھلے کچھ مہینوں سے اس معاملے کی سپریم کورٹ میں مستقل سماعت کی جارہی تھی، پورا ملک بے تابی سے دیکھ رہا تھا۔ اس عرصے کے دوران سماج کے تمام طبقات کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے کے لئے کی جانے والی کوششیں قابل تحسین ہیں۔‘‘

ادھر، اتر پردی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی کہا ہے کہ ممکنہ فیصلہ کے بعد امن و امان برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا، ’’عزت مآب عدالت عظمی کی جانب سے ایودھیا معاملہ کے سلسلے میں سنائے جانے والے ممکنہ فیصلے کے پیش نظر ریاست کے باشندگان سے اپیل ہے کہ آنے والے فیصلے کو جیت یا ہار سے منسلک کرکے نہ دیکھیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ریاست میں پرامن اور پُرسکون ماحول کو برقرار رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔‘‘