بابری مسجد معاملہ: متنازعہ اراضی پر رام للا کا کوئی مالکانہ حق نہیں رہا، راجیو دھون

بابری مسجد اراضی تنازعہ پر سپریم کورٹ میں بدھ کو 21 ویں روز سماعت ہوئی، جس میں جہاں سماعت کے براہ راست ٹیلی کاسٹ کے سلسلے میں عرضی کا خصوصی ذکر کیا گیا، وہیں سنی وقف بورڈ نے اپنے مزید دلائل پیش کئے

قومی آواز گرافکس
قومی آواز گرافکس

یو این آئی

نئی دہلی: ایودھیا کے بابری مسجد-رام جنم بھومی اراضی تنازعہ پر بدھ کو 21 ویں دن سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، جس میں جہاں سماعت کے براہ راست ٹیلی کاسٹ کے سلسلے میں عرضی کا خصوصی ذکر کیا گیا ، وہیں سنی وقف بورڈ نے اپنے مزید دلائل پیش کئے۔

چیف جسٹس رنجن گگوئی ، جسٹس ایس اے بوبڈے ، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبدالنظیر کی آئینی بنچ کے سامنے سنی وقف بورڈ کے وکیل راجیو دھون نے ہندو فریق کے اس دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ، ’’کیا رام للا ویراجمان کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس زمین پر مالکانہ حق ان کا ہے ؟" نہیں ، کیونکہ ان کا مالکانہ حق کبھی نہیں رہاہے ‘‘۔

راجیو دھون نے 1962 میں عدالت عظمیٰ کے دئے گئے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر سوال اٹھایا ، اور کہا کہ جو غلطی پہلے ہوچکی ہے اسے جاری نہیں رکھا جانا چاہئے۔ انہوں نے دلیل دی کہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ یہ زمین پہلے ہندو فریق کے قبضے میں تھی ، جو صحیح نہیں ہے۔

راجیو دھون نے مزید کہا کہ نرموہی اکھاڑا نے غیر قانونی طور پر چبوترے پر قبضہ کیا ،اس پر مجسٹریٹ نے نوٹس دے دیا جس کے بعد عدالتی جائزہ شروع ہوا اور ایک ’غلط‘ نوٹس کی وجہ سے آج عدالت عظمیٰ میں سماعت چل رہی ہے۔ آئینی بنچ وقفہ طعام سےقبل نہیں بیٹھی تھی۔ وقفہ طعام کے بعد جب سماعت شروع ہوئی سابق سنگھ پرچارک کے۔ این گوونداچاریہ کی جانب سے ، سینئر وکیل وکاس سنگھ نے اس معاملے کی سماعت کا براہ راست ٹیلی کاسٹ کے حوالے سے عرضی کا خصوصی ذکر کیا ، جس پر عدالت عظمی نے کہا کہ وہ اس کی سماعت 16 ستمبر کو کرے گی۔

گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے کہا تھا ، یہ انتہائی حساس معاملہ ہے۔ گوونداچاریہ کی درخواست میں ایودھیا معاملے کی سماعت کا براہ راست نشریات یا ریکارڈنگ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ گوونداچاریہ نے درخواست میں کہا ہے کہ معاملہ قومی اہمیت کا حامل ہے۔ درخواست گزار سمیت کروڑوں لوگ اس سماعت کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ کے ستمبر 2018 کے اس حکم کا حوالہ دیا ہے جس میں اہم آئینی امور میں براہ راست ٹیلی کاسٹ شروع کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ ایودھیا تنازعہ کی سماعت کل بھی جاری رہے گی۔