بابری مسجد معاملہ: سیاحوں کے سفرناموں پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا، مسلم فریق کی دلیل

چیف جسٹس نے دونوں وکلاء کو کہا کہ وہ ایک دوسرے کا احترام کریں اور ایک دوسرے کی بحث میں خلل نہ ڈالیں

قومی آواز گرافکس
قومی آواز گرافکس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: بابری مسجد ملکیت مقدمہ کی سماعت کے 35ویں دن منگل کو ایک بار پھر مسلم فریق اور رام للا وراجمان کے درمیان تلخ نوک جھونک ہوئی۔ مسلم فریق کے وکیل ڈاکٹر راجیو دھون نے عدالت کو بتایا کہ رام للا وراجمان کے وکیل پراسرن ان کی بحث کا جواب دینے کے بجائے عدالت کے سامنے نئی بحث کر رہے ہیں نیز عدالت میں جو مثالیں دی جارہی ہیں ان کا اس مقدمہ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

رام للا کے وکیل پراسرن نے کل کی اپنی نامکمل بحث کا آغاز کرتے ہوئے آئینی بینچ کو مورتی کی قانونی شخصیت یعنی کہ Juristic Personality پر مزید بتایا کہ بھگوان کے کئی ایک روپ ہوتے ہیں اور کئی ایک منادر بغیر مورتیوں کے ہی ہیں کیونکہ عوام کا اعتقاد ہے کہ اس جگہ بھگوان ہیں، اس پر جسٹس بوبڑے نے پوچھا کہ کیا جیوتش (علم نجوم) کی کتابوں میں بھی رام جنم کی جگہ اور وقت کا کوئی ذکر ہے؟

اس پرمسلم فریق کے وکیل راجیودھون نے کہا کہ کون سا جیوتش؟ وہ جو سورج سے یا وہ جو چاندکی چال سے مانا جاتا ہے؟ کیونکہ کچھ نجومی سورج سے تو کچھ چاندسے اور کچھ پیدائش کی تاریخ سے جیوتش کا حساب لگاتے ہیں سب کا الگ الگ طریقہ ہے- انہوں نے یہ بھی کہا کہ میرا وقت ابھی راہو اور کیتو کے درمیان پھنسا ہوا ہے جو مجھے مشکل میں ڈال رہا ہے ویسے پیدائش کے حساب سے میں فی الحال شنی کے اثر میں ہوں۔ اس پر جسٹس بوبڑے نے کہا کہ ہم تو اس مقصد سے پوچھ رہے تھے کہ کیا جیوتش کی کتابوں میں بھی کوئی حقیقت موجود ہے!

اس پر کے پراسرن نے کہا کہ جیت کی نومی کو دوپہر میں ابھیجیت نچھتر میں وشنو کے ساتویں اوتارکی شکل میں رام کا جنم ہوا، پانچ رکنی آئینی بینچ کو بتایا کہ ماضی میں صرف اس مقام کو قانونی حیثیت دی گئی تھی جہاں عوام کا یقین تھا کہ بھگوان ہیں۔ انہوں نے ماضی کے فیصلوں کی مثالیں بھی دیں، جس میں مخصوص مقام کو قانونی شخصیت کی حیثیت دی گئی تھی۔ پرسارنن کی اس بحث پر جسٹس بوبڑے نے ان سے پوچھا کہ آیا اس کا اثر ملک کے تمام مندروں پر پڑے گا جس پر انہوں نے کہا کہ یہ عدالت پر منحصر ہے وہ کیا فیصلہ دیتی ہے۔

جسٹس بوبڑے نے پرسارنن کو کہا کہ انہیں بہت محتاط رہ کر بحث کرنی چاہئے کیونکہ ان کی بحث کے مطابق زمین کو بھی قانونی حیثیت ملنا چاہئے کیو نکہ عوام کا عقیدہ ہے کہ بھگوان کا جنم وہاں ہوا تھا۔ سینئر ایڈوکیٹ کے پرسارنن نے کہا کہ ایک ہی مقام پر دو قانونی شخصیت ہوسکتے ہیں جیسے ایک زمین اور دوسرا بھگوان کی مورتی، عدالت نے اس تعلق سے شرومنی گرودوارا پربندھک کمیٹی بنام سوم ناتھ داس کے مقدمہ میں مثبت فیصلہ دیا ہے جس کا فائدہ انہیں اس مقدمہ میں ملنا چاہئے۔

انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ سوئم بھو (خود بخود ظاہر ہونے والا) کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ مورتی کو پرکٹ ہونا چاہئے بلکہ وہ کسی اور بھی طریقے سے پرکٹ ہوسکتی ہے، اس کی صورت کچھ بھی ہوسکتی ہے نیزاس کا حرکت پذیر یعنی کہ Moveable ہونا ضروری نہیں ہے۔ مورتی کی قانونی حیثیت پر بحث کے بعد ایڈوکیٹ کے پراسرن نے دو مرتبہ سوٹ داخل کرنے پربحث کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ میں ریس جوڈیکا ٹا کا اثر نہیں ہوگا کیونکہ دونوں سوٹ میں فرق ہے۔

ایڈوکیٹ پراسرن نے جب عدالت میں دوبارہ نئی بحث چھیڑنے کی کوشش کی تو دھون نے انہیں درمیان میں ٹوک دیا جس پر وہ غصہ ہوگئے اور عدالت سے کہا کہ وہ دھون کو متنبہ کرے کہ وہ انہیں سکون سے بحث کرنے دیں، جس پر دھون نے کہا کہ جب وہ بحث کر رہے تھے تو فریق مخالف بھی انہیں بیچ بیچ میں ٹوک رہے تھے جس پر چیف جسٹس نے دونوں وکلاء کو کہا کہ وہ ایک دوسرے کا احترام کریں اور ایک دوسرے کی بحث میں خلل نہ ڈالیں۔ دھون نے عدالت کو بتایا کہ صرف سیاحوں کے سفرناموں پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دیگرگواہوں کی گواہیوں کو مد نظر رکھنا چاہئے۔ اسی درمیان جسٹس بوبڑے نے پراسرن سے پوچھا کہ جنم بھومی اور جنم استھان میں کیا فرق ہے جس پر انہوں نے کہا کہ جنم بھومی پورے بھارت کو کہہ سکتے ہیں جبکہ جنم استھان اس جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں رام کا جنم ہوا تھا۔

ایڈوکیٹ کے پراسرن کی بحث کے بعد سی ایس ویدیا ناتھن نے بحث کا آغاز کیا اور عدالت کو بتایا کہ ایک بار جب یہ واضح ہوچکا ہے کہ رام کا جنم کہا ں ہوا تھا اس کے بعد اس جگہ پر کسی مورتی کی ضرورت نہیں ہے نیز ہائی کورٹ کے فیصلہ پر مخصوص تنقید کرناغیر ضروری ہے جس پر ڈاکٹر راجیو دھون نے کہاکہ انہوں نے جو بھی بحث کی وہ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں کی ہے آج عدالت الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ پر نظر ثانی کررہی ہے۔

جسٹس چندرچوڑ نے ویدیا ناتھن سے دریافت کیا کہ اگر کسی جگہ پر Dedication نہیں ہے تو کیا ہوگا جس پر ودیا ناتھن نے کہا کہ اس جگہ پر عوام کا عقیدہ ہے، اتنا بس کافی ہے کسی جگہ کو قانونی حیثیت ماننے کے لیئے اور عوام کا یہ ماننا کہ رام کا جنم مخصوص جگہ پر ہوا تھا دیگر بحث پر سبقت لے جا ئے گا۔ ایڈوکیٹ ودیا ناتھن نے عدالت کو مزید بتایا کہ قانونی شخصیت کاوجود ویدیک پریڈ میں نہیں تھا بلکہ گذشتہ دو صد ی کے دوران یہ وقوع پذیر ہوا لہذا عدالت کو فیصلہ کرنا ہوگا کیونکہ اس سے قبل عدالت نے ندی اور دیگر چیزوں کو قانونی شخصیت قبول کیا ہے اور انہیں حقوق دیئے گئے تھے۔ویدا ناتھن نے کہا کہ کسی بھی مسلم گواہ کی جانب سے یہ بیان نہیں آیا ہے کہ ہے کہ مسجد کے نیچے عید گاہ تھی جس پر ڈاکٹر راجیو د دھون بھڑک اٹھے اورکہا کہ کھدائی سے قبل یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ مسجد کے نیچے کیا تھا؟دھون کی مداخلت پر ویادناتھن ناراض ہوگئے اور عدالت سے شکایت کی کہ دھون انہیں بحث نہیں کرنے دے رہے ہیں۔

ویدیاناتھن نے کہا کہ محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ پر الزام لگانا غیر واجبی ہے جس پر عدالت میں موجود ایڈوکیٹ میناکشی اروڑا نے کہا کہ انہوں نے دوران بحث کسی پر الزام عائد نہیں کیا بلکہ رپورٹ میں موجود خامیوں کی جانب عدالت کی توجہ مبذول کرائی گئی تھی۔ (واضح رہے کہ سینئر ایڈوکیٹ میناکشی اروڑا نے محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ پر بحث کی تھی) ایڈوکیٹ ویدیاناتھن نے عدالت کی توجہ محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے کھدائی کی جانے والی دیوار کی جانب دلانے کی کوشش کی جس پر دھو ن نے کہاکہ اس دیوار کی کھدائی کی ہی نہیں گئی تھی جس پر ویدیا ناتھن نے کہا کہ انہوں نے دوران بحث عدالت کو یہ کیوں نہیں بتایا تھا اب جب وہ عدالت کی توجہ دلانے کی کوشش کررہے ہیں انہیں روکا جارہا ہے جس پر دھون نے کہا کہ بحث تو انہوں نے شروع کی تھی لہذا انہیں عدالت کو پہلے بتانا چاہئے تھا۔ویدیاناتھن نے یہ بھی کہا کہ کیونکہ بھگوان رام وہاں پیدا ہوئے تھے اس لئے وہ جگہ اپنے آپ میں مقدس اور کافی ہے،آج فریق مخالف کی بحث نامکمل رہی جس کے بعد عدالت نے اپنی کارروائی جمعرات تک ملتوی کردی کیونکہ کل عدالت کی تعطیل ہے۔

Published: 1 Oct 2019, 9:10 PM