بابری مسجد معاملہ: سپریم کورٹ میں مسجدوں کی شرعی حیثیت پر جواب دیں گے راجیو دھون

تصویر: بابری مسجد

سپریم کورٹ میں آج بابری مسجد رام جنم بھومی مقدمہ کی سماعت ہوگی اور اس بات پر روشنی ڈالی جائے گی کہ اسلام میں مسجد کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

نئی دہلی: سپریم کورٹ میں بابری مسجد رام -جنم بھومی مقدمہ کی آج پھر سے سماعت ہونے جا رہی ہے ۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی والی تین رکنی بینچ معاملہ کی سماعت کرے گی اور بحث اس بات پر ہوگی کہ مسجدیں اسلام کا لازمی جز ہیں یا نہیں۔ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے وکیل راجیو دھون اپنا موقف پیش کریں گے۔

گزشتہ 6 جوالائی کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ہندو فریقین کے سینئر ایڈوکیٹ پی این مشراکو مسجد سے متعلق اسلامی احکامات پربحث کرنے سے روک دیا تھا اور جمعیۃعلماء کے وکیل ڈاکٹر راجیو دھون سے کہا تھا کہ وہ مسجد سے متعلق اسلامی احکامات پر روشنی ڈالیں اور عدالت کو یہ بتائیں کہ اسلام میں مسجد کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اس پر ڈاکٹر راجیودھون نے کہا کہ اسماعیل فاروقی کی طرف سے 1994 میں سنائے گئے اس فیصلہ کی وجہ سے مسجدوں کی شرعی حیثیت کو سخت زک پہنچا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ نماز مسجد میں پڑھنا ضروری نہیں ہے اور وہ کہیں بھی پڑھی جاسکتی ہے۔

بعدازاں سہ رکنی بینچ نے انہیں اس معاملہ میں یہ کہتے ہوئے زیادہ بحث نہیں کرنے دی تھی کہ ہندومسلم فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد عدالت اس تعلق سے کوئی فیصلہ کریگی۔ امید ہے کہ آج جمعیۃ علماء ہند کے وکیل ڈاکٹر راجیو دھون مسجد کی حیثیت کے تعلق سے اپنا موقف صاف کریں گے۔

واضح رہے کہ گذشتہ تین ماہ سے چیف جسٹس دیپک مشراء، جسٹس عبدالنظیراور جسٹس بھوشن کی بنچ کے جاری جمعیۃ علماء کے وکلاء ڈاکٹر راجیو دھون اور ان کی معاونت کرنے والے سینئر وکیل راجو رام چندرن کی بحث کا اختتام ہو چکا ہے۔ بحث کے بعد عدالت نے دیگر فریقین کو بحث کرنے کا موقع دیا تھا۔گزشتہ سماعت کے دوران ہندوفریقین کے وکلاء نے اپنی جاری بحث کو آگے بڑھایا تھا۔

بابری مسجد کی ملکیت کے تنازعہ کو لیکر سپریم کورٹ آف انڈیا میں زیر سماعت پٹیشن نمبر 10866-10867/2010 پر بحث میں سینئر وکلاء کی معاونت کے لئے سینئر ایڈوکیٹ ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ جارج، ایڈوکیٹ تانیا شری، ایڈوکیٹ اکرتی چوبے ، ایڈوکیٹ قراۃ العین، ایڈوکیٹ مجاہد احمد و دیگر موجود تھے۔

سب سے زیادہ مقبول