بابا صدیقی قتل معاملہ: ممبئی پولیس کی بڑی کارروائی، لاپرواہی برتنے کے الزام میں باڈی گارڈ کانسٹیبل برخاست
کانسٹیبل شیام سوناونے ممبئی پولیس کے پروٹیکشن اینڈ سیکورٹی برانچ میں تعینات تھے اور بابا صدیقی کی سیکورٹی پر مامور تھے۔ واقعہ کے بعد انہیں معطل کر محکمہ جاتی تحقیقات شروع کی گئی تھی۔
بابا صدیقی کے قتل معاملے میں ممبئی پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے باڈی گارڈ کانسٹیبل شیام سوناونے کو ڈیوٹی میں لاپرواہی برتنے کے الزام میں سروس سے برخاست کر دیا ہے۔ یہ کانسٹیبل راشٹروادی کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سینئر لیڈر اور مہاراشٹر کے سابق وزیر بابا صدیقی کی سیکورٹی ٹیم کے حصہ تھے۔ 66 سالہ صدیقی کو 12 اکتوبر 2024 کو باندرا واقع ان کے بیٹے ذیشان صدیقی کے دفتر کے باہر 3 حملہ آوروں نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔
واضح رہے کہ جب این سی پی لیڈر بابا صدیقی کا قتل ہوا تھا اس روز کانسٹیبل شیام سوناونے ڈیوٹی پر تھے، لیکن بابا صدیقی پر گولی باری ہونے پر وہ فوری طور پر جوابی کارروائی نہیں کر سکے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس وقت پٹاخے پھوڑے جا رہے تھے اور وہ گولی چلانے والوں کو دیکھ نہیں پا رہے تھے۔ اس کے بعد کانسٹیبل سوناونے کو لاپرواہی اور بے عملی کے سبب معطل کر دیا گیا تھا۔
کانسٹیبل شیام سوناونے ممبئی پولیس کے پروٹیکشن اینڈ سیکورٹی برانچ میں تعینات تھے اور بابا صدیقی کی سیکورٹی پر مامور تھے۔ واقعہ کے بعد انہیں معطل کر محکمہ جاتی تحقیقات شروع کی گئی تھی۔ تحقیقات میں شیام سوناونے کو ڈیوٹی میں لاپرواہی کا قصوروار پایا گیا۔ اس کے بعد انہیں 29 ستمبر 2025 کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس میں پوچھا گیا تھا کہ انہیں سروس سے کیوں نہ ہٹایا جائے۔ محکمہ پولیس نے بعد میں انہیں برخاستگی کا خط جاری کیا، جسے انہوں نے 2 مئی کو قبول کر لیا۔ ڈیوٹی میں لاپرواہی برتنے کے سبب انہیں آفیشیل طور پر سروس سے ہٹا دیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اس معاملے میں ممبئی پولیس نے اب تک 27 لوگوں کو گرفتار کر ان کے خلاف الزام عائد کیے ہیں، جن میں مبینہ شوٹر ہریانہ کا گُرمیل بلجیت سنگھ اور اتر پردیش کا دھرم راج راجیش کشیپ بھی شامل ہے۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ یہ قتل ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے فنڈنگ، ریکی اور سپورٹ نیٹورک سے منسلک افراد کو گرفتار کر لیا۔ اس معاملے میں دسمبر 2025 میں تحقیقات کرنے والی ممبئی کرائم برانچ نے ملزم امول گائیکواڈ کے خلاف تقریباً 200 صفحات پر مشتمل سپلیمنٹری چارج شیٹ بھی داخل کی تھی۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
