بابا صدیقی قتل: لارنس بشنوئی گینگ کا ایک اور رکن گرفتار، پولیس کی بڑی کارروائی

ممبئی کرائم برانچ نے بابا صدیقی قتل کیس میں لارنس بشنوئی گینگ کے رکن امول گائکواڑ کو پونے سے گرفتار کیا۔ اب تک اس کیس میں 26 ملزمان کو حراست میں لیا جا چکا ہے

<div class="paragraphs"><p>بابا صدیقی / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ممبئی: بابا صدیقی قتل کیس میں ممبئی کرائم برانچ کو ایک اور بڑی کامیابی ملی ہے۔ پولیس نے لارنس بشنوئی گینگ سے وابستہ ایک اور رکن کو گرفتار کیا ہے، جس کی شناخت امول گائکواڑ کے طور پر ہوئی ہے۔ کرائم برانچ کی اینٹی ایکسٹورشن سیل نے اسے پونے سے گرفتار کیا۔

پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ امول گائکواڑ کا کردار اس واردات میں براہِ راست نہ سہی مگر اہم تھا۔ وہ کیس کے ایک مفرور ملزم شبھم لونکر کو ممبئی لانے اور لے جانے کا ذمہ دار تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو ریمانڈ پر لے کر مزید پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ اس کے دیگر ساتھیوں اور نیٹ ورک کا پتا لگایا جا سکے۔

اب تک اس قتل کیس میں پولیس نے 26 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گرفتاری اس معاملے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے جاری دباؤ اور سختی کو ظاہر کرتی ہے۔

یاد رہے کہ این سی پی کے سرکردہ لیڈر بابا صدیقی کو گزشتہ سال 12 اکتوبر 2024 کو ممبئی کے باندرہ علاقے میں ان کے بیٹے کے دفتر کے باہر فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ حملہ آوروں کی شناخت گرمیل سنگھ، دھرم راج کشیپ اور شیوکمار گوتم کے طور پر ہوئی تھی۔ فائرنگ کے وقت موقع پر موجود عوام نے ہمت دکھاتے ہوئے گرمیل سنگھ اور دھرم راج کشیپ کو پکڑ لیا تھا، جبکہ شیوکمار گوتم فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ بعد میں پولیس نے اسے اتر پردیش کے بہرائچ ضلع سے اس وقت گرفتار کیا جب وہ نیپال فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔


واقعے کے فوراً بعد لارنس بشنوئی گینگ نے اس قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ گینگ کے مطابق یہ قتل بابا صدیقی کے اداکار سلمان خان سے قریبی تعلقات کی وجہ سے کیا گیا۔ پولیس نے تمام گرفتار ملزمان کے خلاف مکوکا (مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

اسی سال کے اوائل میں ممبئی کرائم برانچ نے عدالت میں 4,590 صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی چارج شیٹ داخل کی تھی۔ اس چارج شیٹ میں واضح کیا گیا کہ قتل کی منصوبہ بندی کئی ماہ پہلے کی گئی تھی۔ ملزمان نے نہ صرف بابا صدیقی کے گھر اور دفتر کی باریک بینی سے ریکی کی تھی بلکہ واردات کے دن تک ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھی تھی۔

چارج شیٹ کے مطابق قتل کی رات تینوں حملہ آور موٹر سائیکل پر آئے اور بابا صدیقی پر قریب سے گولیاں چلائیں۔ فائرنگ کے بعد وہ جائے واردات سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے کہ دو کو لوگوں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔

کرائم برانچ کے مطابق امول گائکواڑ کی گرفتاری کیس میں ایک اہم پیش رفت ہے کیونکہ اس کے ذریعے مفرور ملزمان اور گینگ کی مزید سرگرمیوں کا سراغ لگنے کی امید ہے۔ پولیس اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ قتل کی سازش کے سلسلے میں بیرونِ ملک سے کسی نے مالی یا تکنیکی مدد فراہم کی تھی یا نہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔