اعظم خان، ان کی اہلیہ اور بیٹے کو سپریم کورٹ سے بھی راحت، یوپی حکومت کی عرضی خارج

جعلی برتھ سرٹیفکیٹ کیس میں ایس پی رہنما اعظم خان اور ان کی اہلیہ اور بیٹے کو الہ آباد ہائی کورٹ سے راحت ملی تھی، سپریم کورٹ نے ضمانت منسوخ کرنے کی یوپی حکومت کی درخواست مسترد کر دی

سماجوادی پارٹی کے قدآور لیڈر اعظم خان / تصویر آئی اے این ایس
سماجوادی پارٹی کے قدآور لیڈر اعظم خان / تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: سماجوادی پارٹی کے رہنما اعظم خان اور ان کی اہلیہ و بیٹے کو جعلی برتھ سرٹیفکیٹ کیس میں الہ آباد ہائی کورٹ سے راحت ملی ہے۔ سپریم کورٹ نے ضمانت منسوخ کرنے کی یوپی حکومت کی عرضی کو مسترد کر دیا۔ یوپی حکومت نے ضمانت منظور کرنے کے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ خیال رہے کہ اکتوبر میں الہ آباد ہائی کورٹ نے جعلی پیدائش کی سند حاصل کرنے کے الزام میں اعظم خان، ان کی اہلیہ تزئین فاطمہ اور بیٹے محمد عبد اللہ اعظم خان کی ضمانت کی درخواست منظور کی تھی۔

عدالت نے محمد اعظم خان کی ضمانت کی درخواست کو بھی منظور کر لیا لیکن شکایت کنندہ آکاش سکسینہ کا بیان قلم بند کرنے کے بعد انہیں رہا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے توقع کی ہے کہ شکایت کنندہ سے علی گڑھ عدالت کھلنے کے تین ماہ کے اندر بیان ریکارڈ کرایا جائے گا۔ یہ حکم جسٹس بوبڑے نے ڈاکٹر تنزین فاطمہ ، محمد اعظم خان اور محمد عبداللہ اعظم خان کی درخواستوں کو خارج کرتے ہوئے دیا ہے۔

درخواست گزاروں کے خلاف بی جے پی رہنما آکاش سکسینہ نے رام پور کے گنج پولیس اسٹیشن میں دھوکہ دہی، جعلی دستاویز تیار کرنے کے الزام میں ایف آئی آر درج کروائی ہے، جس میں پولیس چارج شیٹ درج کی گئی ہے۔ مقدمہ ابھی چل رہا ہے۔ الزام ہے کہ اعظم خان اور تزئین فاطمہ نے اپنے بیٹے کے دو برتھ سرٹیفکیٹ حاصل کرلیے ہیں۔ ایک نگر پالیکا پریشد رام پور اور دوسرا میونسپل کارپوریشن لکھنؤ سے بنایا گیا ہے۔ دونوں کی تاریخ پیدائش میں فرق ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 22 Jan 2021, 12:28 PM
next