اعظم خان نے غیر مشروط مانگی معافی، رما دیوی نے کہا ’عادت بگڑی ہوئی ہے‘

اعظم خان کی معافی کے بعد رما دیوی نے کہا ’’اعظم خان کی عادت بگڑی ہوئی ہے‘‘۔ رما دیوی نے اس موقع پر اکھلیش یادو سے سوال کیا کہ وہ اعظم خان کی کیوں حمایت کر رہے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

اعظم خان کے لوک سبھا میں بیان کے بعد گزشتہ ہفتہ جو ہنگامہ شروع ہوا تھا اور ان کے بیان سے خاتون ارکان پارلیمنٹ سمیت سبھی لوگوں میں زبردست ناراضگی پیدا ہو گئی تھی وہ اب اعظم خان کی غیر مشروط معافی کے بعد ٹھنڈا پڑ گیا ہے۔ لوک سبھا میں اسپیکر کے لئے جو ارکان پارلیمنٹ کا پینل بنا ہوا ہے اس میں بہار سے رکن پارلیمنٹ رما دیوی بھی شامل ہیں۔ طلاق ثلاثہ پر بحث کے دوران وہ ایوان کی کارروائی کی نظامت کر رہی تھیں، لیکن جس وقت وہ اسپیکر کا کردار نبھا رہی تھیں اس وقت سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اعظم خان نے اپنے خطاب میں کچھ ایسا بیان دے دیا جس پر تمام ارکان پارلیمٹ نے سخت اعتراض درج کرایا۔

آج جیسے ہی لوک سبھا کی کارروائی شروع ہوئی تو اعظم خان نے کہا ’’میرا ایسا کوئی جذبہ نہیں تھا اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔ میرے مخاطب ہونے کے انداز اور کردار کے بارے میں پورا ایوان جانتا ہے اس کے باوجود اگر چیئر (اسپیکر) کو ایسا لگتا ہے کہ مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو میں اس کے لئے معافی مانگتا ہوں‘‘۔ واضح رہے ایوان کی کارروائی شروع ہونے سے قبل اعظم خان نے لوک سبھا اسپیکر سے ان کے کمرہ میں ملاقات کی تھی۔ ان سے ملاقات کے لئے اسپیکر کے ذریعہ ایک وائرلیس پیغام بھیجا گیا تھا کہ وہ جہاں بھی ہوں فوراً اسپیکر کے چیمبر میں آئیں، جس کے بعد اعظم خان اپنے پارٹی صدر اکھلیش یادو کے ہمراہ اسپیکر سے ملاقات کرنے گئے تھے۔

اعظم خان کی معافی کے بعد رما دیوی نے کہا ’’اعظم خان کی عادت بگڑی ہوئی ہے‘‘۔ رما دیوی نے اس موقع پر اکھلیش یادو سے سوال کیا کہ وہ اعظم خان کی کیوں حمایت کر رہے ہیں۔ رما دیوی نے مطالبہ کیا تھا کہ اعظم خان کو ان کے بیان کے لئے پانچ سال کے لئے ایوان سے معطل کر دینا چاہیے، انہوں نے ان کو معاف کرنے سےانکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر اعظم خان اسی وقت معافی مانگ لیتے تو وہ ان کو معاف کر دیتی، لیکن اعظم خان بنا معافی مانگے ایوان سے باہر چلے گئے تھے۔ رما دیوی کی ناراضگی کے بعد لوک سبھا کی سبھی خاتون ارکان نے رما دیوی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اعظم خان کے بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی تھی۔