اعظم خان کو ہائی کورٹ سے راحت، 29 معاملات میں اسٹے، گرفتاری پر روک، جیا پردا و حکومت کو نوٹس

ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ نے سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمان اعطم خان کی عرضی پر سماعت کے بعد ان کے خلاف درج 29 معاملات پر اسٹے آرڈر جاری کر دیا ہے، ان کی گرفتاری پر روک لگا کر حکومت سے جواب طلب کیا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

الہ آباد: سماجوادی پارٹی کے قدآور رہنما اعظم خان کو الہ آباد ہائی کورٹ سے اس وقت بڑی راحت ملی ہے ہائی کورٹ نے بدھ کے روز محمد علی جوہر یونیورسٹی سے متعلقہ تمام زمینی معاملات پر تاحکم ثانی ان کے خلاف درج ایف آئی آر پر روک لگا دی۔ عدالت عالیہ نے رام پور کے عظیم نگر تھانہ میں کسانوں کی طرف سے درج ایف آئی آر کے سلسلہ میں ان کی گرفتاری پر بھی روک لگا دی ہے۔ علاوہ ازیں، جیا پردا کو نوٹس جاری کیا ہے اور ریاستی حکومت و دیگر فریقین سے بھی جواب طلب کیا ہے۔ عرضی پر مزید سماعت کے لئے 24 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ میں جسٹس منوج مشر اور جسٹس منجو رانی چوہان کی ڈویژن بینچ نے اعظم خان کی عرضی پر سماعت کی اور ان کے خلاف چل رہے 29 مقدمات کے حوالہ سے اسٹے آرڈر جاری کیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس بنیاد پر اب اعظم خان کو دوسرے معاملات میں بھی راحت مل سکتی ہے۔ قبل ازیں، منگل کے روز رامپور میں واقعہ اعظم خان کی رہائش گاہ کے اہم دروازے پر ان کے خلاف زمین ہڑپنے سمیت تمام مقدمات سے وابستہ عدالتی نوٹسز کو چسپاں کیا گیا تھا۔

ایڈوکیٹ قمر الحسن صدیقی اور صفدر کاظمی نے بتایا کہ رامپور میں محمد علی جوہر یونیورسٹی کی زمین کے حوالہ سے کسانوں کو لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی امیدوار رہیں جیا پردا نے اکسا کر ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اعظم خان کے خلاف سیاست پر مبنی 28 ایف آئی آر درج کرائی گئی ہیں۔ واضح رہے کہ کسانوں نے اعظم خان پر جبراً زمین پر قبضہ کرنے کا الزام وعائد کیا ہے، جس پر اعظم خان کی طرف سے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کر کے ریاستی حکومت پر انتقاماً کارروائی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ نے سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمان اعطم خان کی عرضی پر سماعت کے بعد ان کے خلاف درج 29 معاملات پر اسٹے آرڈر جاری کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ اعظم خان کے خلاف رامپور انتظامیہ و دیگران کی جانب سے اب تک 85 سے زیادہ مقدمات درج کئے جا چکے ہیں۔ ان میں بھینس چوری، بکری چوری، مدرسہ سے کتاب چوری، بجلی چوری، غیر اراداً قتل، لوٹ مار، دھوکہ دہی سمیت دیگر سنگین دفعات میں مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ اتنا ہی نہیں کئی معاملات میں ان کی اہلیہ تزئین فاطمہ، دونوں بیٹے اور آنجہانی والدہ کا نام بھی شامل ہے۔ علاوہ ازیں رامپور انتظامیہ کی جانب سے اعظم خان کو زمین مافیا بھی قرار دیا جا چکا ہے۔

Published: 25 Sep 2019, 4:10 PM