ایودھیا تنازعہ: جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف نظر ثانی عرضی داخل کی

جمعیۃ علماء ہند کے صدر ارشد مدنی نے سپریم کورٹ کے ذریعہ ایودھیا معاملہ پر فیصلہ صادر کیے جانے کے بعد کہا تھا کہ عدالت کا فیصلہ سمجھ سے پرے اور متضاد ہے، اس لیے نظرثانی عرضی داخل کی جائے گی۔

تصویر  سوشل میڈیا 
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

بابری مسجد اور رام مندر اراضی تنازعہ پر سپریم کورٹ نے گزشتہ 9 نومبر کو جو فیصلہ سنایا تھا، اس کے خلاف نظر ثانی عرضی داخل کر دی گئی ہے۔ یہ نظر ثانی عرضی جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل کی گئی ہے جو کہ ایودھیا کیس میں 10 مسلم فریقین میں سے ایک اہم مسلم فریق ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق نظر ثانی عرضی جمعیۃ علماء ہند یو پی کے جنرل سکریٹری مولانا اشہد رشیدی کی جانب سے داخل کی گئی ہے۔

مولانا اشہد رشیدی نے بابری مسجد معاملہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی عرضی داخل کرنے سے پہلے میڈیا سے کہا کہ ’’ہماری لیگل ٹیم نے نظرثانی عرضی کا مسودہ تیار کر کے اسے فائنل کیا اور پھر یہ عرضی سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ہے۔‘‘ اس سے کچھ دن قبل انھوں نے کہا تھا کہ ’’عدالت نے اپنے فیصلے میں مندر توڑ کر مسجد نہیں بنائے جانے کی بات کہی ہے اور پھر بھی فیصلہ ہمارے خلاف دیا ہے۔ اس لیے ہم عدالت سے گزارش کریں گے کہ وہ اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرے۔‘‘

واضح رہے کہ جمعیۃ علماء ہند کے صدر ارشد مدنی نے سپریم کورٹ کے ذریعہ ایودھیا معاملہ پر فیصلہ صادر کیے جانے کے بعد کہا تھا کہ عدالت کا فیصلہ سمجھ سے پرے اور متضاد ہے، اس لیے نظرثانی عرضی داخل کی جائے گی۔ حالانکہ بعد میں کچھ اس طرح کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں جس میں کہا گیا تھا کہ جمعیۃ علماء ہند نظر ثانی عرضی داخل کرنے کا اپنا ارادہ ترک کر سکتی ہے۔ لیکن بالآخر ادارہ نے سپریم کورٹ سے درخواست کر دی ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرے۔

قابل غور ہے کہ ایودھیا کی متنازعہ اراضی سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ بھی معاملے کو لے کر عدالت عظمیٰ میں نظرثانی عرضی داخل کرنے کی بات کہہ چکا ہے۔ بورڈ کے سکریٹری ظفریاب جیلانی کا کہنا ہے کہ فیصلے میں کئی نکات پر تضاد سامنے آتا ہے۔ ایسے میں وہ ایودھیا فیصلہ پر نظرثانی کے لیے دوبارہ سپریم کورٹ جائیں گے۔ ظفریاب جیلانی کا کہنا ہے کہ ابھی نظرثانی عرضی کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے اور 9 دسمبر سے پہلے کبھی بھی یہ عرضی سپریم کورٹ میں داخل کی جا سکتی ہے۔

Published: 2 Dec 2019, 3:39 PM