بابری مسجد: سپریم کورٹ میں آج سماعت، فریقین نے کہا، جلد ہو فیصلہ

ایودھیا کی بابری مسجد تنازعہ پر آج ایک بار پھر سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی۔ معاملہ سے متعقل تمام فریقین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ مزید ٹالا نہیں جانا چاہئے اور جلد فیصلہ سنایا جائے۔

By قومی آوازبیورو

سپریم کورٹ میں آج سے ایک بار پھر ایودھیا کی بابری مسجد-رام جنم بھومی تنازعہ کی سماعت ہونے جا رہی ہے۔ گزشتہ سماعت یکم فروری کو ہوئی تھی اور اس وقت مذہبی کتابوں کے ترجمہ کی عدم دستیابی کی بنا پر سماعت ملتوی کردی گئی تھی۔ سماعت کے دوران عرضی گزاروں نے کہا تھا کہ یہ معاملہ لوگوں کے جذبات سے وابستہ ہے لہذا جلد از جلد فیصلہ ہونا چاہئے۔ مقدمہ کی سماعت کے آغاز میں ہی عدالت نے یہ واضح کر دیا تھا کہ اس معاملہ کو صرف اور صرف ایک مالکانہ تنازعہ کی نظر سے دیکھا جائےگا اور کوئی جذباتی اپیل قبول نہیں کی جائے گی۔

عدالت نے کہا تھا کہ اس معاملے میں فریقین کے دلائل سنے جائیں گیں، اس کے بعد عرضی گزاروں کی درخواست پر سماعت ہوگی۔ اس معاملہ میں بنیادی طور پر تین فریقین سنی سینٹرل وقف بورڈ، رام للا اور نر موہی اکھاڑہ ہیں۔ علاوہ ازیں تقریباً ایک درجن فریقین نے اس معاملہ میں عرضیاں پیش کی ہیں۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ سال اگست میں ہونے والی سماعت کے دوران تمام دستاویزات کا ترجمہ پیش کرنے کو کہا تھا ، لیکن فروری میں ہوئی سماعت تک ترجمہ مکمل نہیں ہوسکا تھا۔