قومی

ایودھیا معاملے میں مرکزی حکومت کی پٹیشن، پرسنل لا بورڈ کو اعتراض، یوگی و سادھو خوش

ایودھیا معاملے میں وکیل ظفریاب جیلانی نے کہا، ’’متنازعہ زمین کے ارد گرد تعمیراتی کام پر سپریم کورٹ کی پابندی ہے، لہذا اس زمین کو ان کے مالکان کو دینے کی اجازت طلب کرنا عدالت کے فیصلے کے خلاف ہے۔‘‘

قومی آواز گرافکس
قومی آواز گرافکس

یو این آئی

مرکزی حکومت نے ایودھیا میں 2.77 ایکڑ متنازعہ زمین کے علاوہ اس کے آس پاس موجود 67 ایکڑ زمین کو اس کے حقیقی مالکان کی ملکیت میں دینے کے لئے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایودھیا میں متنازعہ زمین کے اردگرد موجود زمین کے بارے میں نریندر مودی کی مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کر کے متنازعہ زمین کے ارد گرد موجود 67 ایکڑ زمین کو اس کے حقیقی مالکان کو دینے کی اجازت طلب کی ہے۔

سپریم کورٹ میں داخل عرضی پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے سپریم کورٹ کے فیصلے کے عین مخالف گردانہ ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن اور ایودھیا معاملے میں وکیل ظفریاب جیلانی نے منگل کو کہا کہ ’’متنازعہ زمین کے ارد گرد کسی بھی قسم کے تعمیراتی کام پر سپریم کورٹ نے سخت پابندی عائد کر رکھی ہے۔ لہذا متنازعہ زمین کے ارد گرد زمین کو ان کے مالکان کو دینے کی اجازت طلب کرنا عدالت کے فیصلے کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ مرکزی حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کرے گا اور مرکز کو کورٹ کے فیصلے کے خلاف کچھ بھی اقدام کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔

ایودھیا معاملے میں بابری مسجد کے فریق اقبال انصاری نے میڈیا نمائندو ں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر کورٹ مرکز کی عرضی کو منظور کرتے ہوئے غیرمتنازعہ زمین کو دینے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتی ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

انصاری نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے ترقیاتی اور مفاد عامہ کی اسکیموں پر دھیان مرکوز کرے لیکن اسے رام مندر کی زیادہ فکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام انتخابات کو قریب آتا دیکھ مرکز نے سیاسی مفاد کے خاطر ایسا قدم اٹھایا ہے۔

وہیں دوسری جانب اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے مرکز کے اس فیصلے کا استقبال کرتے ہوئے کہا ’’وہ پہلے سے ہی کہتے رہے ہیں کہ ہمیں غیر متنازعہ زمین کے استعمال کی اجازت ملنی چاہیے۔

سادھو سنتوں نے بھی مرکزی حکومت کے اس پٹیشن کا استقبال کیا ہے۔ سنت سمیتی کے چیف مہنت کنہیا داس کے مطابق غیر متنازعہ زمین سنتوں کے حوالے کردینی چاہیے تاکہ مذہبی پروگرام وہاں پر منعقد کیے جاسکیں۔ یہ سنت سماج کی جانب سے وقتاً فوقتاً کیا جانے والا ان کا کافی قدیم مطالبہ ہے۔

رام مندر کے پجاری آچاریہ ستیندر داس نے کہا کہ تنازعہ صرف 2.77 ایکڑ زمین پر ہے لہذا باقی ماندہ زمین کو مرکزی حکومت کے سپرد کی جاسکتی ہے۔ لیکن میں یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جب تک 2.77 ایکڑ زمین رام جنم بھومی نیاس کے حوالے نہیں کی جائے گی رام مندر کی تعمیر نہیں کی جاسکتی۔

ایودھیا معاملے میں ہو رہی تاخیر کا ذمہ دار کانگریس کوٹھہراتے ہوئے یوپی حکومت کے ترجمان و ریاستی وزیر صحت سدھارتھ نا تھ سنگھ نے کہا کہ کانگریس کے سینئر لیڈر و سپریم کورٹ کے سینئر وکیل کپل سبل اپنے صدر راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کے اشارے پر اس معاملے میں جان بوجھ کر خلل اندازی کر کے مزید تاخیر کرانے کے ذمہ دار ہیں۔