قومی

گراؤنڈ رپورٹ: مودی کی رَیلی میں صدر کووِند کی ذات کے نام پر بی جے پی نے مانگے ووٹ

اس بار لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی مایوسی کھل کر سامنے آنے لگی ہے۔ حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ پارٹی لیڈران صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کی ذات کے نام پر بھی ووٹ مانگ رہے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

دھیریا ماہیشوری

مغربی اتر پردیش کے علی گڑھ میں اتوار کو وزیر اعظم نریندر مودی اپنی پارٹی کے امیدواروں کے لیے انتخابی مہم چلانے گئے تھے۔ اس کے پیش نظر منعقد انتخابی جلسہ میں پی ایم کی تقریر سے ٹھیک پہلے بی جے پی کے ہاتھرس سے رکن اسمبلی ہری شنکر ماہور نے جلسہ میں صدر جمہوریہ کا نام گھسیٹ لیا۔ رکن اسمبلی نے صدر جمہوریہ کی ذات کولی کی دہائی دے کر ان کے نام پر ووٹ مانگے۔

رکن اسمبلی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’میں دیکھ رہا ہوں کہ اس جلسہ میں کولی طبقہ کے بہت سے لوگ آئے ہیں۔ اس حکومت نے رام ناتھ کووند کو صدر جمہوریہ بنایا، جو کولی طبقہ سے آتے ہیں۔‘‘ رکن اسمبلی نے جس وقت یہ تقریر کی، اس وقت اسٹیج پر یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور ہاتھرس، بلند شہر اور علی گڑھ سے بی جے پی کے لوک سبھا امیدوار موجود تھے۔ ان تینوں سیٹوں پر دوسرے مرحلے میں 18 اپریل کو پولنگ ہوگی۔

ماہور کی یہ تقریر پی ایم نریندر مودی کی تقریر سے کچھ دیر پہلے ہی ہوئی تھی۔ ماہور نے تو صدر جمہوریہ کی ذات کے نام پر ووٹ مانگے، لیکن پی ایم ذات کی بنیاد پر ووٹ مانگنے کی اپیل کو خارج کرتے ہوئے ایس پی-بی ایس پی-آر ایل ڈی اتحاد پر نشانہ سادھا۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ پارٹیاں جو ذات پات کی سیاست کر رہی ہیں، ہم اس کے خلاف ہیں۔‘‘

اس انتخابی جلسہ میں موجود لوگوں کا کہنا تھا کہ علی گڑھ، ہاتھرس اور بلند شہر کی محفوظ سیٹوں پر بغیر ذات والے فارمولہ کے انتخاب جیتنا ناممکن ہے، بھلے ہی مودی کچھ بھی کہتے رہیں۔ بی جے پی کے ایک کارکن نے کہا کہ ’’ان سیٹوں پر لودھ راجپوتوں کی بڑی تعداد ہے اور ان کے بغیر الیکشن جیتنا مشکل ہے۔‘‘ رام سنگھ نامی بی جے پی کارکن نے اس موقع پر کہا کہ ’’وہ یوں تو بلند شہر کے موجودہ رکن پارلیمنٹ بھولا سنگھ سے ناراض ہے، لیکن صرف مودی کے نام پر بی جے پی کو ووٹ دے گا۔‘‘

دراصل بلند شہر سے بی جے پی امیدوار بھولا سنگھ اور علی گڑھ سے امیدوار ستیش گوتم کو لے کر لوگوں میں زبردست ناراضگی ہے۔ یہاں تک کہ مقامی بی جے پی کارکنان بھی ان امیدواروں کے لیے انتخابی تشہیر نہیں کر رہے ہیں۔ حال ہی میں ایک ویڈیو بھی سامنے آیا تھا جس میں بی جے پی کارکن گوتم کو ان کے منھ پر کھری کھوٹی سنا رہے ہیں۔

بی جے پی امیدواروں کو لے کر ناراضگی اور 2014 جیسے کسی لہر کے نہ ہونے سے بی جے پی کی مشکلیں بڑھتی نظر آ رہی ہیں۔ کم از کم ان دونوں سیٹوں پر تو مہاگٹھ بندھن کا پلڑا بھاری ہی نظر آ رہا ہے۔ اس کے علاوہ ان تینوں سیٹوں کے گاوؤں میں کسانوں کی پریشانیاں کسی سے چھپی نہیں ہیں، پھر بھی مودی اور یوگی دونوں نے ہی زراعتی بحران پر کچھ بولنے کی جگہ ایک بار پھر پلوامہ حملے کا تذکرہ کیا۔ مودی نے کہا کہ ’’کیا آپ پاکستان کو سبق سکھانا چاہتے ہیں یا نہیں...۔‘‘

Published: 15 Apr 2019, 9:09 PM