دہلی: ’کھڑکی مسجد‘ کو مہارانا پرتاپ کا قلعہ بنانے کی کوشش!

چودھویں صدی کی اس تاریخی مسجد کے بورڈ پر لکھے لفظ’ مسجد‘ پر بار بار سفید رنگ پوتا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ مسجد نہیں بلکہ مہارانا پرتاپ کا قلعہ ہے۔

قومی آوازبیورو

سلاطین اور مغلیہ دور کی عماراتیں ، درگاہوں اور مساجدلگاتار شرپسندوں کے نشانے پر ہیں۔ کہیں عمارت پر قبضہ کیا جار رہا ہے تو کہیں اس کی شناخت تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ گزشتہ مہینے خبر آئی تھی کہ دہلی کے صفدرجنگ انکلیو واقع ایک مقبرے کو مندر میں تبدیل کر دیا گیااور اب ساؤتھ دہلی کے کھڑکی گاؤں میں واقع ایک مسجد کے ساتھ ویسی ہی کوشش کی جا رہی ہے۔

روزنامہ انڈین ایکسپریس کے مطابق، کھڑکی گاؤں میں واقع دور سلاطین کی تاریخی ’کھڑکی مسجد ‘ کے بورڈ پر لکھے لفظ ’مسجد‘ کو بار بار سفید پینٹ سے پوتا جا رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ انتظامیہ کو اس تعلق سے کوئی معلومات نہیں ہے۔

مسجد کی حفاظت کے لئے 2008 سے تعینات ایک گارڈ کا کہنا ہے، ’’سب سے پہلے ڈیڑھ سال قبل بورڈ سے لفظ ’مسجد‘ کو ہٹایا گیا تھا ۔ ہم نے اس کی اطلاع اے ایس آئی حکام کو دی اور دوبارہ ’مسجد‘ لکھنے کو کہا۔ اگلے دن نام کو پھر سے ہٹا دیا گیا۔ ‘‘ گارڈ نے مزید بتایا کہ’’کچھ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مسجد نہیں ہے بلکہ مہارانا پرتاپ کا تعمیر کردہ قلعہ ہے۔ ‘‘

کھڑکی مسجد پہلی بار اس وقت سرخیوں میں آئی تھی جب مقامی مسلمانوں نے اس میں نماز پڑھنے کی اجازت چاہی تھی۔

اے ایس آئی دہلی زون کے ایک ذرائع نے انڈین ایکسپریس کو بتایا، ’’یہ ایک نہایت ہی حساس معاملہ ہے اور ہمیں اس کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ ہو سکتا ہے اے ایس آئی کے انچارج نے سینئر حکام کو مطلع نہ کیا ہو۔ لفظ مسجدکے ساتھ اے ایس آئی نے چھیڑ چھاڑ نہیں کی بلکہ یہ کسی شرپسند کا کام ہے۔ ‘‘

کھڑکی مسجد مشہور ’ساکیت مال ‘ کے نزدیک واقع ہے جوکہ اب اونچی اونچی عمارتوں سے گھر گئی ہے۔

کھڑکی مسجد کو 14 ویں صدی میں دہلی کے سلطان فیروز شاہ تغلق کے وزیر اعظم ملک مقبول نے تعمیر کروائی تھی۔ مسجد کی تاریخ بیان کرنے والا کوئی بورڈ نصب نہیں کیا گیا ہے۔ ہندوستان کے 1915 کے گزٹ کے مطابق اے آئی ایس آئی نے عمارت کو ’کھڑکی مسجد‘ کے طور پر درج کیا ہے۔ اے ایس آئی کے ایک افسر کا کہنا ہے، ’’مسجد کی بحالی کا کام شروع کیا جائے گا۔ اس ضمن میں ٹنڈر کا عمل چل رہا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں: دہلی: تغلق دور کا مقبرہ مندر میں تبدیل

کھڑکی مسجد کی جب تک بحالی نہیں ہو جاتی اس کی پہچان پر خطرہ منڈلا تا رہےگا۔مقامی رہائشی وجے کمار کا کہنا ہے کہ ’’افسران کچھ بھی کہیں یہ مسجد نہیں ہے، میں کھڑکی میں پلا بڑھا ہوں یہ ایک قلعہ ہے جسے مہارانا پرتاپ نے تعمیر کرایا تھا۔چونکہ دوسرا طبقہ اس پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اس لئے اسے مسجد کہا جا رہا ہے۔ ‘‘

مسلمانوں کا مطالبہ ہے کہ کھڑکی مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے۔ یہ معاملہ ہائی کورٹ تک پہنچا تھا۔ ایڈوکیٹ شاہد علی کی طرف سے دائر کی گئی عرضی میں کہا گیا تھا کہ ’’ ساکیت کورٹ کمپلیکس کے نزدیک نماز ادا کرنے کا کوئی مقام نہیں ہے اس لئے کھڑکی مسجد میں نماز کی اجازت دی جائے۔‘‘ کھڑکی مسجدمیں نماز ادا کی جائے یا نہیں اس کا فیصلہ ہائی کورٹ نے اپریل ماہ میں مرکزی حکومت پر چھوڑ دیا تھا۔

لیکن اے ایس آئی کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ ’’یہ ایک غیر فعال یادگاری عمارت ہے جو نماز ادا کرنے کے لئے نہیں ہے۔‘‘ دریاگنج کے رہائشی محمد اجمل خان کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ اسی خاندان سے وابستہ ہیں جنہوں نے اس مسجد کو تعمیر کروائی تھی۔ جمعہ کے روز اجمل نے مسجد کا دورہ کیا ۔ ان کا کہنا ہے، ’’میرے آبا ؤ اجداد نے اس مسجد کو عبادت کے لئے تعمیر کروا ئی تھی۔اس لئے اس سلسلے میں ایک پی آئی ایل داخل کروں گا۔‘‘