آسام میں موب لنچنگ، گائے کا گوشت بیچنے کے شبہ میں بزرگ مسلم کی پٹائی

آسام میں لوک سبھا انتخابات کے پہلے مرحلہ سے عین قبل مبینہ طور پر گائے کا گوشت بیچنے کے شبہ میں بھیڑ نے ایک بزرگ مسلم کی زبردست پٹائی کر دی۔ پولس کے مطابق معاملہ 7 اپریل کا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

آسام کے وشوناتھ ضلع میں مبینہ طور پر گائے کا گوشت فروخت کرنے کے شک کی بنیاد پر بھیڑ نے ایک عمر دراز مسلم شخص کی بے رحمی سے پٹائی کر دی۔ اس پٹائی سے زخمی شوکت علی کا علاج اس وقت سرکاری اسپتال میں جاری ہے۔ مار پیٹ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو چکا ہے۔ حالانکہ ’قومی آواز‘ ویڈیو یا آدمی پر حملہ کرنے والی بھیڑ کی سچائی کی تصدیق نہیں کر سکتا، لیکن شوکت علی بری حالت میں اور کیچڑ میں نظر آ رہے تھے۔

ویڈیو کے مطابق شوکت علی کو بھیڑ نے بے رحمی سے پٹائی کی جس کے بعد وہ گھٹنوں کے سہارے کیچڑ میں بیٹھ گئے اور بھیڑ سے التجا کر رہے ہیں کہ انھیں چھوڑ دیا جائے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولس نے پانچ لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔ ضلع پولس کے مطابق اس معاملے میں دو الگ الگ ایف آئی آر درج کروائی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک ایف آئی آر شوکت علی کے بھائی نے درج کروائی ہے۔

پولس کا کہنا ہے کہ شولت علی اس علاقے میں گزشتہ 35 سالوں سے اپنا کاروبار کر رہا ہے۔ بازار میں لگنے والے ہفتہ وار ہاٹ میں اس کی گوشت کی دکان ہے جہاں وہ لوگوں کو پکا ہوا گوشت فروخت کرتا ہے۔ بھیڑ نے گائے کا گوشت فروخت کرنے کا مبینہ الزام عائد کرتے ہوئے اس پر حملہ کیا۔

اس سے پہلے بھی وشوناتھ ضلع میں بھیڑ کے ذریعہ ایک شخص کا پیٹ پیٹ کر قتل کرنے اور تین کو زخمی کرنے کے معاملے میں 11 لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ معاملہ جمعرات کا تھا۔ گائے چور ہونے کے اندیشہ میں مقامی لوگوں نے ایک گاڑی میں جا رہے چار لوگوں کو گھیر کر ان کی بری طرح پٹائی کی تھی۔ ان میں سے ایک نے اسپتال میں دَم توڑ دیا تھا۔ بقیہ تین لوگ سنگین طور پر زخمی ہیں۔ ان چاروں کا تعلق قبائلی طبقہ سے تھا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 09 Apr 2019, 12:09 PM