آسام انتخاب: ’وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما دن میں خواب دیکھتے ہیں‘، ڈی کے شیوکمار نے کانگریس کی فتح کا کیا دعویٰ
ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ کانگریس پارٹی کی اپنی تاریخ رہی ہے، اپنی قدریں رہی ہیں۔ کانگریس سبھی کو ساتھ لے کر چلتی ہے، جبکہ بی جے پی والے صرف ہندوتوا میں بھروسہ کرتے ہیں۔

آسام میں اسمبلی انتخاب کی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ ایک طرف بی جے پی کے شعلہ بیان لیڈر اور وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما مسلم طبقہ کے خلاف بیان بازی سے ہندو ووٹوں کو پولرائز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور دوسری طرف کانگریس نفرت و فرقہ پرستی پر مبنی سیاست کے خلاف آواز اٹھا کر فتح حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اس درمیان کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے دعویٰ کیا ہے کہ آسام کی عوام تبدیلی چاہتی ہے، اس لیے کانگریس کی حکومت آنے والی ہے۔
یہ بیان ڈی کے شیوکمار نے ’ٹی وی 9 نیٹورک‘ کے ایک پروگرام میں دیا۔ انھوں نے کہا کہ آسام کے لوگوں نے کانگریس کے ریاستی یونٹ صدر (گورو گگوئی) کا انتخاب کر لیا ہے، وہ بہت ہی سینئر لیڈر ہیں اور ان کی قیادت میں پوری کانگریس پارٹی متحد ہے۔ سبھی مل کر سخت محنت کر رہے ہیں اور آسام میں اقتدار کی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔ پروگرام میں اپنی بات رکھتے ہوئے کانگریس لیڈر نے بتایا کہ پہلے آسام کانگریس حکمراں ریاست تھی، لیکن گزشتہ 10 سالوں سے وہاں کانگریس کی حکومت نہیں ہے۔ اب آسام کے لوگ چاہتے ہیں کہ نئی اور نوجوان نسل سے کوئی بغیر الزام والا چہرہ سامنے آئے۔ کانگریس نے ایسے چہروں کو موقع دیا ہے اور جیت کا پورا یقین ہے۔
نائب وزیر اعلیٰ نے بی جے پی قیادت، بی جے پی امیدوار اور وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما سے متعلق کوئی تبصرہ کرنے سے پرہیز کیا، لیکن کچھ سوالات کے بہت واضح جواب دیے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے کانگریس کے 30 فیصد ٹکٹ کا فیصلہ خود کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تو رد عمل میں شیوکمار نے کہا کہ ’’ہم سبھی رات میں خواب دیکھتے ہیں، لیکن وہ دن میں خواب دیکھتے ہیں۔ وہ کانگریس پارٹی کے بارے میں فیصلہ کیسے لے سکتے ہیں! بی جے پی کے لوگ بہت ہی گھٹن والے ماحول میں ہیں۔‘‘
ہیمنت بسوا سرما کے ایک دیگر دعویٰ کہ ’کانگریس پارٹی کے سبھی ہندو لیڈران بی جے پی کے ساتھ ہیں‘، پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے شیوکمار نے کہا کہ یہ نظریہ غلط ہے۔ کانگریس پارٹی کی اپنی تاریخ ہے، اپنی قدریں ہیں۔ کانگریس سبھی کو ساتھ لے کر چلتی ہے۔ بی جے پی والے صرف ہندوتوا میں بھروسہ کرتے ہیں، لیکن ہم لوگ چاہے وہ مسلم ہو یا سکھ، ہندو ہو یا بودھ، سبھی کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ ہم آئین، قومی پرچم اور قومی گیت پر بھروسہ کرتے ہیں۔ کانگریس میں ڈسپلن کی کمی سے متعلق سوال کے جواب میں کانگریس لیڈر نے کہا کہ حال میں 30-40 سال کے دوران بی جے پی کا ایک سیاسی پارٹی کی شکل میں عروج ہوا ہے۔ پہلے واجپئی اور اڈوانی 2 لیڈران پارلیمنٹ میں تھے، اب ان کی تعداد بڑی ہو گئی ہے۔ حالانکہ ان میں کوئی اخلاقی قدر نہیں ہے۔ وہ ’آپریشن لوٹس‘ پر یقین کرتے ہیں۔ انھوں نے کرناٹک اور ہریانہ کے ساتھ ساتھ مہاراشٹر میں کیا سازش کی، سبھی کو پتہ ہے۔ مہاراشٹر میں اس سے قبل بھی انھیں اکثریت نہیں ملی تھی۔
ڈی کے شیوکمار نے بی جے پی کے زوال کا دعویٰ بھی کیا اور کہا کہ جلد ہی یہ پارٹی غائب ہو جائے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’سیاست میں کچھ بھی مستقل نہیں ہوتا ہے۔ سورج طلوع ہوتا ہے اور غروب ہوتا ہے۔ دن اور رات آتی جاتی ہے۔ بی جے پی بھی غائب ہو جائے گی۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’اس رات کی صبح ہوگی۔ کانگریس کو پہلے بڑی اکثریت حاصل تھی، پھر سے وہی وقت آئے گا۔ ہمیں یقین ہے کہ ملک کی عوام تبدیلی چاہتی ہے، اور وہ وقت آئے گا۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔