آسام میں بارش اور سیلاب سے تباہی، ہلاکتوں کی تعداد 100 تک پہنچی، 50 لاکھ افراد متاثر

وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے کہا کہ سیلاب کا پانی کم ہونے کے بعد حکومت سیلاب کی وجوہات کا مستقل حل تلاش کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔

آسام میں بارش اور سیلاب سے تباہی، تصویر یو این آئی
آسام میں بارش اور سیلاب سے تباہی، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

آسام میں سیلاب کی صورتحال آج بھی جوں کی توں رہی۔ اس دوران چار بچوں سمیت 12 افراد لقمہ اجل بن گئے، جس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 100 ہو گئی۔ ریاست کے 34 اضلاع میں سے 32 ضلعوں میں 54.57 لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے کہا کہ سیلاب کا پانی کم ہونے کے بعد حکومت سیلاب کی وجوہات کا مستقل حل تلاش کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔

انہوں نے ناگاؤں اور موری گاؤں اضلاع کے مختلف سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور کچھ جگہوں پر انہوں نے ریل کا سفر بھی کیا۔ فوج اور قومی اور ریاستی ڈیزاسٹر ایجنسیاں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے چوبیس گھنٹے کام کر رہی ہیں۔ آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایس ڈی ایم اے) کے حکام نے بتایا کہ پانچ اضلاع میں 12 افراد کی موت ہوئی ہے، جن میں ہوجائی میں چار اور نلباری اضلاع کے تین لوگ شامل ہیں۔


اے ایس ڈی ایم اے حکام کے مطابق رواں سال اپریل سے اب تک سیلاب سے 83 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ مٹی کے تودے گرنے سے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ 4,941 گاؤں کے 11,67,219 بچوں سمیت 54,57,601 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں کل 845 ریلیف کیمپ اور 1026 امدادی مراکز کھولے گئے ہیں۔ کل 2,71,125 لوگ ریلیف کیمپوں میں رہ رہے ہیں، جب کہ 99,026 ہیکٹر سے زیادہ فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ تین دریاؤں برہم پترا، کوپلی اور ڈسانگ کا پانی کئی مقامات پر خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔