میزورم کے بعد آسام کے لئے میگھالیہ کی سرحد پر سر دردی ، وزراء اعلی کی بات چیت

میگھالیہ کے وزیراعلیٰ نے کہا ہےکہ تمام اختلافات کا پرامن حل تلاش کرنے کے لیے دونوں ریاستوں کے پاس مضبوط سیاسی قوت ارادی ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

شمال مشرقی ریاستوں میں جاری سرحدی تنازعہ اور اس معاملے پر قومی توجہ کے پس منظر میں آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما اور میگھالیہ کے وزیر اعلیٰ کونراڈ سنگما کے درمیان جمعہ کو دسپور میں ہونے والی میٹنگ کودونوں لیڈران نے ’نئی امید‘ قراردیا۔قابل ذکر ہے کہ دونوں ریاستوں کے درمیان جاری سرحدی تنازعہ نے کئی بار پرتشدد شکل اختیارکرچکا ہے۔

واضح رہے حال ہی میں میزورم کے ساتھ سرحدی تنازعہ نے آسام کے چھ پولیس اہلکاروں کی جان لے لی اور کئی دیگر زخمی ہوئے۔مسٹر سنگما نے میٹنگ کے بعد گوہاٹی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سطح کی میٹنگ کی میزبانی کرنے کے لئے مسٹرسرما کاشکریہ اداکیا۔انہوں نے کہا ، “ہم بہت خوش ہیں کہ ملاقات بہت تعمیری اور مثبت رہی۔ ہم دونوں حکومتوں کی جانب سے بہت واضح ہے کہ ہم دونوں ریاستوں کے درمیان اختلافات اور تنازعات کے علاقے کو حل کرنا چاہتے ہیں۔


واضح رہے یہ بہت عرصے سے جاری ہے اور ان اختلافات نے مختلف علاقوں کے بہت سے لوگوں کو تکلیف پہنچائی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ تمام اختلافات کا پرامن حل تلاش کرنے کے لیے دونوں ریاستوں کے پاس مضبوط سیاسی قوت ارادی ہے۔انہوں نے کہا ، "ہم اس بات پر متفق ہیں کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں، اسے احترام کے ساتھ کیا جانا چاہئے اور دونوں ریاستوں کو ایک دوسرے کا احترام کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کی میٹنگ میں ہم نے آسام حکومت کی طرف سے بارہ میں سے چھ شعبوں میں اختلافات کے بارے میں ایک تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ جس حکمت عملی پرعمل کرنے کے لئے دونوں ریاستیں متفق ہوئی ہیں، وہ ان معاملات کو مرحلہ وار طریقے سے اٹھاناہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔