آسام انتخابات: بی جے پی اتحاد نے بہ آسانی اکثریت حاصل کی
آسام اسمبلی کی 126 سیٹوں پر کس کی حکومت بنے گی، اس پر شمال مشرق ہی نہیں، پورے ہندوستان کی نظر ہے۔ آسام میں 9 اپریل کو ووٹنگ ہوئی تھی اور کانگریس و بی جے پی کے درمیان زبردست ٹکر کی امید ظاہر کی گئی ہے

گورو گگوئی اپنی سیٹ بھی نہیں بچا سکے، بی جے پی اتحاد نے اکثریت حاصل کی
آسام میں بی جے پی اتحاد نے کانگریس اتحاد کو شکست فاش دے دی ہے۔ حالت ایسی ہے کہ گورو گگوئی سمیت کئی سرکردہ کانگریس لیڈران کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گورو گگوئی تو 20 ہزار سے زائد ووٹوں سے ہار گئے ہیں۔ بی جے پی اتحاد نے بہ آسانی اکثریت حاصل کر لی ہے، اور اب ایک بار پھر ریاست میں ہیمنت بسوا سرما کی حکومت تشکیل پانے کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک بی جے پی اتحاد کو 71 نشستوں پر جیت مل چکی ہے، جبکہ حکومت سازی کے لیے جادوئی نمبر 64 ہے۔ 29 سیٹوں پر بی جے پی اتحاد کے امیدوار آگے بھی چل رہے ہیں۔ بی جے پی تنہا 59 سیٹوں پر جیت حاصل کر چکی ہے اور 23 سیٹوں پر سبقت بنائے ہوئی ہے۔ کانگریس اتحاد کی بات کریں، تو اسے 3 سیٹوں پر جیت حاصل ہوئی ہے اور 19 پر سبقت حاصل ہے۔ بقیہ سیٹوں پر دیگر پارٹیوں کے امیدواروں نے برتری حاصل کی ہوئی ہے۔
رجحانات سے مسرور بی جے پی میں جشن کا ماحول
آسام میں بی جے پی ایک بار پھر حکومت بناتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ رجحانات میں بی جے پی اتحاد مضبوطی کے ساتھ اکثریت حاصل کر چکی ہے اور کئی سیٹوں پر اس کی سبقت نتیجہ خیز ہے۔ سبھی 126 سیٹوں کے جو تازہ رجحانات سامنے آئے ہیں، ان کے مطابق بی جے پی اتحاد 98 سیٹوں پر آگے ہے۔ بی جے پی تنہا 79 سیٹوں پر سبقت بنائے ہوئی ہے، یعنی وہ تنہا بھی حکومت سازی کی طاقت حاصل کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ کانگریس اتحاد نے 26 سیٹوں پر سبقت بنایا ہوا ہے، جن میں کانگریس کی اپنی 24 سیٹیں ہیں۔ حکومت سازی کے حالات دیکھ کر بی جے پی جشن کا ماحول ہے۔ کہیں بی جے پی لیڈران و کارکنان رقص کرتے دکھائی دے رہے ہیں، تو کہیں مٹھائیاں تقسیم کی جا رہی ہیں۔ دوسری طرف کانگریس خیمہ میں سناٹا پسرا ہوا ہے۔
بی جے پی اتحاد کا شکنجہ ہو رہا مضبوط، رجحانات میں 83 نشستوں پر آگے
بی جے پی کی قیادت والا این ڈی اے آسام میں پوری طرح حاوی دکھائی دے رہا ہے۔ یہ اتحاد شہری، نیم شہری اور دیہی علاقوں میں پھیلی اسمبلی سیٹوں پر اپنی مضبوط گرفت بناتا دکھائی دے رہا ہے۔ شہری علاقوں میں بی جے پی نے 15 میں سے 13 اسمبلی سیٹوں پر آگے ہے اور نیم شہری علاقوں میں 22 میں سے 18 سیٹوں پر آگے ہے۔ مجموعی طور پر آسام میں این ڈی اے 83 نشستوں پر، کانگریس اتحاد 30 نشستوں پر اور اے آئی یو ڈی ایف 2 سیٹوں پر آگے چل رہی ہے۔ بقیہ سیٹوں پر دیگر امیدواروں نے برتری بنائی ہوئی ہے۔
بی جے پی رجحانات میں تیزی کے ساتھ بڑھ رہی آگے، کانگریس کے لیے راہیں مشکل!
آسام میں اب تک 114 سیٹوں کے رجحانات سامنے آ چکے ہیں۔ بی جے پی ان رجحانات میں تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور اب تک 85 سیٹوں پر سبقت بنا چکی ہے۔ کانگریس کی راہیں انتہائی مشکل نظر آ رہی ہیں، کیونکہ اس کے محض 28 امیدوار آگے چل رہے ہیں۔ ایک سیٹ پر اے آئی یو ڈی ایف کا امیدوار آگے ہے۔
کانگریس کی ہوگی واپسی یا ہیمنت بسوا سرما پھر کریں گے واپسی؟
آسام اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اعلان آج ہونے والا ہے۔ اس صوبہ کی 126 سیٹوں پر کس کی حکومت بنے گی، اس پر شمال مشرق ہی نہیں، پورے ہندوستان کی نظر بنی ہوئی ہے۔ آسام میں 9 اپریل کو ووٹنگ ہوئی تھی اور کانگریس و بی جے پی کے درمیان زبردست ٹکر کی امید ظاہر کی گئی ہے۔ اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کانگریس واپسی کرتی ہے یا پھر ہیمنت بسوا سرما ایک بار پھر وزیر اعلیٰ بنیں گے۔ پوسٹل بیلیٹ کی گنتی شروع ہو چکی ہے، اور تھوڑی ہی دیر میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں (ای وی ایم) بھی کھلنے والی ہیں۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
