میزورم نے آسام کے وزیر اعلی سمیت کئی افسران کے خلاف کیا کیس درج

سرحدی تنازعہ کو لے کر میزورم اور آسام آمنے سامنے کھڑے ہیں اور دونوں ریاستوں میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ دونوں ریاستوں نے سخت رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

میزورم اور آسام کے درمیان سرحدی تنازعہ کو لے کر ہوئے تشدد کے واقعہ میں شدت آ تی جا رہی ہے۔ اب دونوں ریاستوں نے ایک دوسرے کے افسران کے خلاف کیس درج کر دئے ہیں۔میزورم نے آسام سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے آسام کے وزیر اعلی ہیمنت بسوا سرما اور آسام پولیس کے چار اعلی افسران کے خلاف کیس درج کیا ہے۔یہ کیس میزورم پولیس نے کولاسب ضلع کے ویرنگتے نگر کے باہری حصہ میں ہوئے تشدد کے معاملہ میں درج کئے ہیں ۔

نیوز پورٹل اے بی پی پر شائع خبر کے مطابق میزورم کے پولیس ڈایریکٹر جنرل (ہیڈ کواٹر) جان این نے بتایا کی ان تمام لوگوں کے خلاف قتل کی کوشش اور مجرمانہ سازش سمیت کئی دیگر الزامات کے تحت کیس درج کئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ آسام پولیس اور میزورم پولیس کے بیچ ہوئی پر تشدد جھڑپوں کے بعد یہ ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔ واضح رہے اس سے قبل اسی معاملہ میں آسام پولیس نے دو سو انجان افراد کے خلاف معاملہ درج کیا ہے۔


واضح رہے اس سے قبل آسام پولیس نے کولاسب ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی کمشنر سمیت میزورم حکومت کے چھہ افسران کو دھولائی تھانے میں پیر تک پیش ہونے کے لئے سمن جاری کئے ہیں۔ شائع خبر کےمطابق آسام پولیس نے ان افسران کو 28 جولائی کو ہی سمن جاری کر دئے تھے ۔ واضح رہے سمن جاری ہونے سے دو دن پہلے کچھار ضلع کے لیلا پور میں آسام اور میزورم پولیس کے بیچ خونی جھڑپ ہوئی تھی جس میں آسام پولیس کے چھہ اہلکار اور ایک مقامی شہری ہلاک ہو گیا تھا۔ اس واقعہ میں پچاس سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔