بی جے پی کی سیاست سے جمہوریت خطرے میں، بنگال میں اس کا داخلہ نہیں ہونا چاہیے: اشوک گہلوت

کولکاتا میں اشوک گہلوت نے بی جے پی پر جمہوری اداروں کے غلط استعمال کا الزام لگایا، بنگال میں اس کی انٹری کو خطرناک قرار دیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے ہوشیار رہیں

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کولکاتا: راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے مغربی بنگال کی راجدھانی کولکاتا میں ایک پریس بریفنگ کے دوران مرکزی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوری نظام کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں جمہوریت کی بنیادیں کمزور ہو رہی ہیں اور اداروں کا غلط استعمال ایک تشویشناک رجحان بن چکا ہے۔

اشوک گہلوت نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی قیادت میں این ڈی اے حکومت سیاسی فائدے کے لیے ایجنسیوں جیسے انکم ٹیکس، ای ڈی اور سی بی آئی کا استعمال کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، انتخابات کے دوران بھی چھاپوں اور کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی دباؤ کے تحت کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات جمہوری اصولوں کے خلاف ہیں اور عوام میں بے چینی پیدا کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں اظہار رائے کی آزادی محدود ہو رہی ہے اور صحافیوں، ادیبوں سمیت مختلف طبقوں کو دباؤ کا سامنا ہے۔ گہلوت کے مطابق، اگر کوئی حکومت کے خلاف بولتا یا لکھتا ہے تو اسے قانونی کارروائی کا خطرہ رہتا ہے، جو ایک جمہوری معاشرے کے لیے مناسب نہیں۔

مغربی بنگال کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ یہ انتخاب نہایت اہم ہے اور ریاست کی شناخت اور سیاسی سمت کا تعین کرے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بی جے پی کو بنگال میں قدم جمانے کا موقع ملا تو اس کے نتائج پورے ملک کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق بنگال کی اپنی ایک الگ ثقافت اور سیاسی روایت ہے، جسے برقرار رکھنا ضروری ہے۔


گہلوت نے ممتا بنرجی کی حکومت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ریاست میں بدعنوانی، بے روزگاری اور نظم و نسق کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف گھوٹالوں اور بدعنوانی کے الزامات نے عوام کو مایوس کیا ہے، جس کا فائدہ بی جے پی کو مل رہا ہے۔

انہوں نے راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس مسلسل عوام کو آگاہ کر رہی ہے اور جمہوری اقدار کے تحفظ کی بات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق کانگریس کا مقصد صرف انتخابات جیتنا نہیں بلکہ جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران گہلوت نے اپنی حکومت کے دوران راجستھان میں نافذ فلاحی اسکیموں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ عوامی فلاح کے ماڈل کو دیگر ریاستوں میں بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے خواتین، کسانوں اور نوجوانوں کے لیے کانگریس کے وعدوں کو دہراتے ہوئے کہا کہ پارٹی اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

آخر میں انہوں نے عوام، خاص طور پر نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ موجودہ حالات کو سمجھیں اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اکیلے کچھ نہیں کر سکتیں، جب تک عوام خود بیدار نہ ہوں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔