کملیش تیواری قتل کی اِن سائیڈ اسٹوری: اشفاق نے روہت بن کر کیا قتل... یو پی پولس

کملیش تیواری قتل معاملہ کے ملزم اشفاق شیخ نے اپنے ساتھی کے آدھار میں تصویر کو بدل کر روہت سولنکی کی شکل اختیار کر لی تھی۔ روہت بن کر ہی اشفاق نے کملیش تیواری کے ایک ساتھی سے جان پہچان بڑھائی تھی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ہندو سماج پارٹی کے قومی سربراہ کملیش تیواری کے قتل کو لے کر تیار کی گئی سازش کے بارے میں روزانہ کچھ نہ کچھ انکشاف ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں گجرات پولس نے ایک بڑی بات سامنے لائی ہے۔ کملیش تیواری کے قتل کی سازش بے حد شاطر انداز میں تیار کی گئی تھی۔ کملیش تیواری کے قتل کے دو اہم ملزمین میں سے ایک کے بارے میں گجرات پولس نے انتہائی اہم جانکاری میڈیا سے شیئر کی ہے۔ فرار ملزمین میں سے ایک اشفاق شیخ فارما کمپنی میں منیجر کے عہدہ پر کام کرتا تھا۔ اسی دوران اس نے کمپنی کے ایک ہندو ساتھی کی پہچان کو چرا لیا۔ اور اس کی پہچان کا استعمال کر اشفاق شیخ ہندو سماج پارٹی میں ایک پرچارک کی شکل میں شامل ہو گیا۔

پولس سے ملی اطلاع کے مطابق ملزم اشفاق شیخ نے اپنے ایک ساتھی کے آدھار کارڈ میں تصویر کو بدل کر روہت سولنکی کی شکل اختیار کر لی۔ اسی پہچان کی بنیاد پر اشفاق شیخ نے کملیش تیواری کے ایک معاون سے جان پہچان کی۔ اس دوران ان سے ہندو سماج پارٹی میں اندر تک اپنی پہنچ بنائی۔ بتایا جا رہا ہے کہ اشفاق شیخ نے ہندو سماج پارٹی کے گجرات سربراہ جیمن دَوے تک رسائی حاصل کر لی تھی۔ لگاتار وہ جیمن سے رابطے میں رہتا تھا۔ اس دوران اشفاق شیخ جیمن دَوے کے سامنے خود کو ہندوتوا کا کٹر حامی ثابت کرنے اور ان کا اعتماد جیتنے میں کامیاب ہو گیا۔ یہیں سے اس نے کملیش تیواری تک اپنی پہنچ بنائی اور پھر قتل کی سازش تیار کی۔

اس درمیان پورے واقعہ اور اشفاق شیخ کے کملیش تیواری کے قتل سے جڑے منصوبے سے روہت سولنکی پوری طرح سے انجان تھا۔ اشفاق کے ہندو ساتھی روہت سولنکی نے پیر کو ایک پولس میں شکایت درج کرائی ہے، جس میں اس نے دھوکہ دہی کے معاملے کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔

روہت سولنکی کے مطابق اشفاق شیخ فارما کمپنی میں ان کا منیجر تھا۔ سولنکی نے بتایا کہ وہ کمپنی میں ایک ایم آر کی شکل میں کام کرتے تھے۔ روہت سولنکی نے بتایا کہ ’’ہم لوگ سال 2017 سے ایک ساتھ کام کر رہے تھے۔ سبھی ملازمین کو جوائننگ کے وقت اپنے دستاویزوں کو کمپنی میں جمع کرنے پڑتے ہیں۔ اسی وقت اشفاق شیخ نے میرا آدھار کارڈ لیا ہوگا۔‘‘

روہت سولنکی نے بتایا کہ وہ اور ان کے دوسرے ساتھی گزشتہ ہفتے سے شیخ سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔ سولنکی نے بتایا کہ اشفاق شیخ کا فون بند ہے۔ روہت نے کہا کہ ہم یہ سن کر حیران ہیں کہ اس نے مرڈر کیا ہے۔

دوسری طرف پولس کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ جس آدھار کارڈ کا استعمال اشفاق اور اس کے ساتھی نے لکھنؤ میں ہوٹل کا کمرہ بک کرنے کے لیے کیا تھا، وہ بھی فرضی ہے۔ پولس کو ملی خبروں کے مطابق قتل کی جڑیں احمد آباد سے جڑی ہوئی ہیں۔ اشفاق شیخ کی فیملی 2011 میں احمد آباد سے سورت منتقل ہوئی تھی، جب سورت میں اشفاق کی بیوی کو ٹیچر کی ملازمت ملی تھی۔

بتایا جا رہا ہے کہ کملیش تیواری قتل واقعہ کے تین دیگر سازشی راشد خان پٹھان، مولانا محسن اور فیضان خان 16 اکتوبر کو اشفاق اور ایک دیگر مشتبہ معین الدین کو چھوڑنے اُدھنا ریلوے اسٹیشن گئے تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اُدھنا سے یہ لوگ ادیوگ کرمی ایکسپریس سے کانپور پہنچے۔ اس کے بعد کانپور سے وہ کار سے لکھنؤ پہنچے۔ بتایا جا رہا ہے کہ کملیش تیواری کے قتل کے بعد راشد نے مبینہ طور سے ناگپور میں محمد عاصم کو فون کر اس بات کی جانکاری دی تھی۔ اس نے فون پر کہا تھا کہ ’’کام ہو گیا ہے‘‘۔ فی الحال عاصم علی کو ٹرانزٹ ریمانڈ پر لے کر یو پی پولس پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔ اسے اے ٹی ایس، پونے نے اتوار کو حراست میں لیا تھا۔

Published: 22 Oct 2019, 1:11 PM
next