مکہ مسجد میں کوئی دھماکہ ہوا ہی نہیں؟ سب ملزمین بری

عدالت کے ذریعہ فیصلہ سنائے جانے کے بعد اسدالدین اویسی نے کہا کہ ’’اس معاملے میں انصاف نہیں ہوا۔‘‘ انھوں نے اپنے ٹوئٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی اور این آئی اے پر سوال بھی کھڑے کیے۔

حیدر آباد واقع مکہ مسجد دھماکہ میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے آج سوامی اسیمانند سمیت پانچوں ملزمین کو ثبوت کی کمی کے سبب بری کر دیا۔ ذرائع کے مطابق اس معاملے کی جانچ کر رہی حیدر آباد کی این آئی اے ٹیم عدالت کے سامنے ملزمین کے خلاف کوئی پختہ ثبوت پیش نہیں کر پائی جس کے بعد سبھی پانچ اہم ملزمین کو آزاد کر دیا گیا۔ عدالت نے سماعت کے دوران این آئی اے کی دلیلوں کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف کوئی معاملہ نہیں بنتا۔ اس طرح سوامی اسیمانند، دیویندر گپتا، لوکیش شرما، بھرت بھائی اور راجندر چودھری بے قصور قرار دیے گئے۔ ان میں سوامی اسیمانند اور بھرت بھائی پہلے سے ہی ضمانت پر باہر تھے جب کہ تین جیل میں بند تھے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد انھیں بھی جیل سے آزاد کیا جائے گا۔

حیدر آباد میں عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد معروف سیاسی لیڈر اسدالدین اویسی نے مایوسی کا اظہار کیا۔ انھوں نے اس سلسلے میں ایک ٹوئٹ کیا جس میں لکھا کہ مکہ مسجد دھماکہ معاملہ میں انصاف نہیں ہوا۔ انھوں نے اس سلسلے میں نریندر مودی حکومت اور این آئی اے کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگایا۔ اسدالدین اویسی نے مکہ مسجد دھماکہ سے متعلق جانچ میں جانبداری برتے جانے کا بھی الزام عائد کیا۔ ایک دیگر ٹوئٹ میں انھوں نے یہ بھی لکھا کہ ’’جون 2014 کے بعد مکہ مسجد دھماکہ کے سبھی گواہ اپنی باتوں سے پلٹ گئے۔ اس کیس میں انصاف نہیں ہوا۔‘‘

مکہ مسجد دھماکہ کے سبھی اہم ملزمین کو آزاد کیے جانے سے متعلق این آئی اے نے فی الحال کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ عدالت کے فیصلے کی مکمل کاپی پڑھنے کے بعد ہی اس پر کوئی تبصرہ کریں گے۔ این آئی اے نے کہا کہ ’’ہم ابھی عدالت کے فیصلے کی کاپی کا انتظار کر رہے ہیں اور کاپی آنے کے بعد ہی ہم اس معاملے میں آگے کی کارروائی کریں گے۔‘‘

دوسری طرف اس کیس میں عدالت کے فیصلے سے سابق داخلہ سکریٹری آر وی ایس منی مطمئن نظر آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’مجھے پہلے سے ہی ایسے کسی فیصلے کی امید تھی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’اس معاملے سے جڑے سبھی ثبوت کے ساتھ چھیڑخانی کی گئی تھی اور ملزمین کو قصداً پھنسانے کی کوشش کی گئی تھی۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ مکہ مسجد دھماکہ 18مئی2007کو ہوا تھا ۔ جمعہ کی نماز کے موقع پر ہوئے اس دھماکہ میں 9افراد ہلاک اور58افراد زخمی ہوگئے تھے اور بعد ازاں دھماکہ کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد پر پولس کی فائرنگ میں بھی پانچ افراد کی موت ہوگئی تھی۔ اس معاملے میں حسینی علم پولس نے ایک معاملہ درج کیا تھا ۔بعد ازاں یہ معاملہ سی بی آئی کے حوالے کیا گیا۔مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے اس معاملہ کو سی بی آئی سے این آئی اے کے حوالے 2011میں کیا گیا تھا۔ اس دھماکہ میں دائیں بازو کی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے دس افراد کے نام چارج شیٹ میں داخل کئے گئے تھے لیکن صرف پانچ افراد کو ہی گرفتار کیا جاسکا تھا۔ اس کیس میں این آئی اے نے 160 چشم دید گواہوں کا بیان درج کیا تھا جن میں سے 58 گواہ بعد میں عدالت کے سامنے اپنے بیان سے پلٹ گئے تھے۔

واضح رہے کہ سوامی اسیمانند آر ایس ایس کارکن رہ چکے ہیں اور انھیں مکہ مسجد دھماکہ معاملہ میں 19 دسمبر 2010 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ انھوں نے تحریری طور پر اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ’ابھینو بھارت‘ کے کئی اراکین نے مسجد میں بم دھماکہ کی سازش تیار کی تھی۔ سوامی اسیمانند کو 23 مارچ 2017 میں ضمانت دے دی گئی تھی۔ اسیمانند کو اجمیر دھماکہ کیس میں پہلے ہی بری کیا جا چکا ہے۔ ساتھ ہی مالیگاؤں اور سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ میں بھی انھیں پہلے ہی ضمانت دی جا چکی ہے۔

سب سے زیادہ مقبول