اسلام میں نکاح ایک ’کنٹریکٹ‘ ہے، اسے سات جنموں کا بندھن مت بناؤ: اویسی

اسدالدین اویسی نے کہا، ’’اس بل میں طلاق کو جرم بنا دیا گیا ہے۔ عدالت نے ہم جنس پرستی کو غیر مجرمانہ بنا دیا ہے، ایسے میں آپ تین طلاق کو جرم بنا کر کیسا ہندوستان بنانے جا رہے ہیں!‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اور حیدرآباد سے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے لوک سبھا میں تین طلاق بل کی مخالفت کرتے ہوئے حکومت پر جم کر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل مسلم خواتین کے حق میں قطعی نہیں ہے بلکہ یہ ان کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ شوہر کو گرفتار کریں گے تو خاتون کو گزارے کا خرچ کون دے گا۔ شوہر جیل میں بیٹھ کر مینٹی ننس کس طرح سے دے گا؟ اویسی نے مسلم خاتون (میرج رائٹس پروٹیکشن) بل 2019 کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں شادی ایک ’کنٹریکٹ‘ (معاہدہ) کی طرح ہے، اسے جنم جنم کا ساتھ بنانا مناسب نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ تیسری بار اس بل کے خلاف تقریر کرنے کے لیے کھڑے ہوئے ہیں اور جب تک زندگی رہے گی تب تک اس کی مخالفت کرتے رہیں گے۔ تین طلاق کو اس حکومت نے جرائم کے زمرے میں ڈال دیا۔ ملزم شوہر کو تین سال کے لیے جیل میں ڈالنے کا التزام ہے تو پھر خاتون کا نان و نفقہ کون دے گا؟

بیرسٹر اویسی نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام میں نکاح نامہ ہے، اس تعلق سے ایک شرط لگا دیجیے کہ اگر کوئی تین طلاق دے گا تو اسے خاتون کو مہر کی رقم کا 500 گنا جرمانہ دینا ہوگا۔ اگر کوئی مسلمان غلطی سے تین بار طلاق بول دیتا ہے تو شادی نہیں ٹوٹتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسلام میں نو قسم کے طلاق ہوتے ہیں اور تین طلاق اس میں سے صرف ایک ہے۔ اس بل سے خاتون پر بوجھ بڑھے گا کیونکہ جب شوہر جیل میں چلاجائے گا تو پھر متاثرہ کو خرچ کون دے گا؟

انہوں نے کہا کہ اگر عدالت نے تین طلاق دینے والے شخص کو تین سال کی سزا دے دی تو پھر خاتون تین سال تک اس کے انتظار میں کیوں بیٹھی رہے؟ وہ شادی میں کیوں رہے؟ کیا خاتون تین سال بعد کہے گی ’بہاروں پھول برساؤ میرا محبوب آیا ہے؟‘ اسی کے ساتھ ایوان میں ٹھٹھا مارکر لوگ ہنسنے لگے۔

اویسی نے کہا کہ یہ بل آئین کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔ ایکسٹرا میریٹل افیئرس اور ہم جنس پرستی کو جرائم کے زمرے سے باہر کر دیا گیا ہے اور شادی جیسے دیوانی معاملے کو مودی حکومت جرائم کے زمرے میں لارہی ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ ملک بدل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسلمانوں کو ان کی تہذیب و ثقافت سے دور کرنے والا قانون ہے۔ اسے واپس لیا جانا چاہیے۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

Published: 25 Jul 2019, 7:10 PM