سیلاب سے تباہی کے بعد کیرالہ پیسے پیسے کو محتاج، پی ایم مودی کو نہیں آ رہا رحم!

وزارت خارجہ کے ریکارڈ کے مطابق گجرات زلزلہ کے بعد وہاں باز آبادکاری کے لیے کم از کم 60 ممالک سے مدد لی گئی تھی۔ ان میں آسٹریلیا، اسرائیل، اٹلی، امریکہ، یو اے ای اور پاکستان تک شامل تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

دھیریا ماہیشوری

ملک کی جنوبی ریاست کیرالہ اس صدی کے سب سے خوفناک سیلاب سے بے حال ہو چکا ہے اور اب اپنی باز آبادکاری کے لیے مالی بحران سے نبرد آزما ہے۔ حیران کن ہے کہ ایسے وقت میں مرکزی حکومت بیرون ممالک سے مدد قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ مودی حکومت کے ذریعہ متحدہ عرب امارات کی مدد ٹھکرائے جانے کے بعد تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے اور انگلیاں وزیر اعظم نریندر مودی پر اٹھنے لگی ہیں کہ آخر ان کی منشا کیا ہے!

سوشل میڈیا پر لوگوں نے کیرالہ کے لیے بیرون ملکی مدد ٹھکرانے پر براہ راست وزیر اعظم نریندر مودی پر دوہرا رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کر دیا ہے۔ ٹوئٹر پر لوگوں نے بتایا ہے کہ کس طرح 2001 میں زلزلہ کے بعد گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے لاکھوں ڈالر کی مدد منظور کی تھی۔ وزارت خارجہ کے ریکارڈ کے مطابق گجرات زلزلہ کے بعد وہاں باز آبادکاری اور دوسرے کاموں کے لئے کم از کم 60 ممالک سے مدد لی گئی تھی۔ ان میں آسٹریلیا، اسرائیل، اٹلی، امریکہ، یو اے ای اور پاکستان تک شامل تھا۔

2004 آتے آتے ہندوستان نے قدرتی آفات کے دوران بیرون ملکی مدد منظور کرنے پر غیر اختیاری طور پر روک لگا دی۔ فی الحال اس سلسلے میں جو پالیسی ہے اس کے مطابق کیرالہ جیسی آفات کی حالت میں بیرون ملکی مدد منظور کرنے یا خارج کرنے کا فیصلہ مرکزی حکومت کے شعور پر ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے 16 مئی 2016 کو قومی آفات مینجمنٹ منصوبہ کا جو خاکہ پیش کیا تھا اس میں کہا گیا تھا کہ ’’اگر کسی ملک کی حکومت قدرتی آفات کے متاثرین سے ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے ایک اچھے قدم کے جذبہ سے مدد کی پیشکش کرتی ہے تو مرکزی حکومت اسے منظور کر سکتی ہے۔‘‘

مرکز کی مودی حکومت نے اب تک کیرالہ کو دو حصوں میں کل 600 کروڑ کی مدد دینے کا اعلان کیا ہے جو کہ 2200 کروڑ کی اس رقم کا تقریباً ایک چوتھائی ہے جو کیرالہ حکومت نے طلب کیا ہے۔ ایسے میں شبہ ہوتا ہے کہ کیا ملک کے پاس ایسی آفات سے نمٹنے کے لیے ضروری فنڈ موجود نہیں؟

کیرالہ کے وزیر مالیات تھامس آئیزیک نے جمعرات کو کہا تھا کہ ’’ہم نے مرکزی حکومت سے 2200 کروڑ کا مطالبہ کیا تھا لیکن ہمیں ابھی تک صرف 600 کروڑ کی منظوری ملی ہے۔ ہم نے کسی بیرون ملک سے مدد کی اپیل نہیں کی ہے لیکن یو اے ای نے خود ہی 700 کروڑ روپے کی پیشکش کی ہے۔ لیکن مرکزی حکومت نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔‘‘

صرف کیرالہ حکومت ہی نہیں، کانگریس کے سینئر لیڈر اے کے انٹونی نے بھی مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ پیسے کے بحران کے سبب بیرون ملکی مدد لینے کی پالیسی میں تبدیلی کی جانی چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 2013 کے اتراکھنڈ سیلاب میں بیرون ملکی مدد نہ لیے جانے سے راحت اور بچاؤ کے کام میں کافی پریشانیاں آئی تھیں۔ ماہرین کا سوال ہے کہ ’’گڑھوال میں دوبارہ بنائی گئی سڑکوں کی حالت دیکھ لیجیے۔ اچھی سڑکیں نہ ہونے کی وجہ سے چار دھام یاترا بری طرح متاثر ہوئی۔ اگر کانگریس نے ایسی پالیسی بنائی تھی تو کیا بی جے پی کا فرض نہیں کہ غلطیوں کی اصلاح کی جائے۔‘‘

اب حالت یہ ہے کہ پیسے کی کمی کا ایشو اب وہ سارے ادارے اور گروپ اٹھا رہے ہیں جو کیرالہ میں کام کر رہے ہیں۔ سبھی کا کہنا ہے کہ جتنا پیسہ دستیاب ہے ضرورت اس سے کہیں زیادہ کا ہے۔ کیرالہ میں کام کر رہے ادارہ ’آکس فیم انڈیا‘ کے سی ای او امیتابھ بہر کا کہنا ہے کہ ’’میں نہیں سمجھتا کہ یہ صحیح فیصلہ ہے۔ یہ اتنا بڑا کام ہے کہ کوئی تنہا نہیں کر سکتا۔ ایسے میں ذمہ داریاں بانٹ لینا صحیح رہتا ہے۔ اگر یو اے ای اور دوسرے ملک کیرالہ کے بحران میں مدد کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کا استقبال کرنا چاہیے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’لیکن یہ ساری مدد مل کر بھی وہ نہیں کر سکتیں جو حکومت کر سکتی ہے۔ کیرالہ کو پوری طرح بحران سے نکال کر پھر سے کھڑا کرنے کے لیے حکومت کو آگے آنا چاہیے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ مختلف سطحوں سے مدد ملنا ہمیشہ اچھا ہوتا ہے۔ دنیا بھر سے آ رہی مدد کی پیشکش کو اچھی طرح سے منظم کرنے کی ضرورت ہے۔

دوسری طرف ’ایکشن ایڈ انڈیا‘ کی ایک عہدیدار دیپالی شرما نے اس بحران سے نمٹنے کے تئیں کیرالہ حکومت کی کوششوں کی خوب تعریف کی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی بہت پیسے کی ضرورت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’ضرورت بہت بڑی ہے، یقیناً زیادہ پیسہ چاہیے۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ ’ایکشن ایڈ‘ سیلاب متاثرہ علاقوں میں کھانے، پینے کا پانی، صحت اور صفائی وغیرہ کے لیے کام کر رہا ہے۔ دیپالی کا کہنا ہے کہ کسی بھی ذریعہ سے آنے والی مدد کا ہمیں استقبال کرنا چاہیے۔

ایک دیگر اہم این جی او کے لیے کام کرنے والے ایک کارکن نے بھی مرکز کے ذریعہ یو اے ای کی مدد خارج کرنے پر سوال اٹھایا۔ کیرالہ حکومت کے ساتھ راحت کے کام میں مصروف اس این جی او کے کارکن نے کہا کہ ’’اگر ہم ترقی، صحت اور صفائی کے لیے بیرون ملکی پیسہ لے سکتے ہیں تو ہمیں انسانیت کے ناطے دی گئی مدد قبول کرنے میں پرہیز کیوں؟ مرکزی حکومت کچھ ایسا سمجھانے کی کوشش کر رہی ہے جس کی کوئی دلیل نہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔