دہلی میں بیجا گرفتاریاں: مودی اور کیجریوال حکومت کے خلاف 26 جون کو اورنگ آباد میں احتجاج

مسلم نمائندہ کونسل کے صدر ضیاء الدین صدیقی کی جانب سے دی گئی درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ آئندہ جمعہ 26 جون کو اورنگ آباد میں ایک علامتی احتجاجی دھرنا منعقد کیا جائے گا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

اورنگ آباد: سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے لیے پرامن طور پر جمہوری طریقوں سے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے مظاہرے کرنے والوں کے خلاف مرکزی حکومت اور دہلی کی کیجریوال حکومت کی جانب سے بے بنیاد الزامات لگا کر اور انھیں دہلی کے فرقہ وارانہ فسادات کے جھوٹے مقدمات میں پھنساکر ان بے قصور افراد کو جیلوں میں بند کر رہی ہے، اس کے خلاف آئندہ جمعہ 26 جون کو اورنگ آباد میں ایک علامتی احتجاجی دھرنے کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

اس ضمن میں اورنگ آباد ڈویژنل کمشنر کو دی گئی ایک درخواست میں کہا گیا ہے کہ دہلی میں سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف جن نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے حصہ لیا تھا اور جن انصاف پسند اورجمہوری اقدار میں یقین رکھنے والے صحافی، دانشوروں اور دیگر سماجی اور فلاحی کاموں میں حصہ لینے والے افراد نے ان کی حمایت اور مدد کی ان سب کے خلاف انتقاماً کارروائی کی جا رہی ہے۔

مسلم نمائندہ کونسل کے صدر ضیاء الدین صدیقی کی جانب سے دی گئی درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ آئندہ جمعہ 26 جون کو اورنگ آباد میں ایک علامتی احتجاجی دھرنا منعقد کیا جائے گا۔ دوپہر ڈھائی بجے سے ساڑے چار بجے تک اورنگ آباد ڈویژنل کمشنر کے دفتر کے سامنے منعقد کیے جانے والے اس احتجاجی دھرنے میں مختلف پارٹیوں، سیاسی سماجی اور ملی تنظیموں اور جماعتوں کے چنندہ 40 سے 50 افراد ہی شرکت کریں گے، اور اس دوران کووڈ-19 کے روک تھام کے لیے حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ تمام احتیاطی تدابیر اور بطور خاص سوشل ڈسٹنسنگ (ایک دوسرے کے درمیان محفوظ فاصلے) کا خاص خیال رکھا جائے گا۔

دہلی میں نریندر مودی اور کیجریوال حکومت کی جانب سے اقلیتوں کے خلاف کی جا رہی ان کاروائیوں کی مذمت کی خاطر یہ احتجاجی دھرنا منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر صدر جمہویہ ہند کو ایک میمورنڈم بھی دیا جائے گا، جس میں واضح کیا جائے گا کہ مرکز میں مودی حکومت اور دہلی کی کیجریوال حکومت مسلم مخالف ایجنڈے کو فروغ دینے میں مصروف ہے۔ اور علی الاعلان اقلیتوں کے خلاف تشدد پر اکسانے والے تمام مجرموں کو مکمل طور چھوٹ دیتے ہوئے اور انھیں نظر انداز کر کے بے گناہ لوگوں کے خلاف کاروائیاں کی جا رہی ہیں۔ جنہوں نے سی اے اے کے خلاف پرامن احتجاج میں حصہ لیا انھیں گرفتار کرکے ان کے خلاف سخت قانون یو اے پی اے کے تحت مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔

next