بغیر وجہ بتائے گرفتار کرنا غیر قانونی، الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اترپردیش حکومت پر لگایا 10 لاکھ روپے جرمانہ
منوج کمار کو اناؤ کے اسیون تھانہ پولیس نے ایک کیس کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا۔ پولیس کی جانب سے گرفتاری کی وجہ بتانے کے بجائے صرف ایف آئی آر نمبر درج کیا گیا تھا۔

الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے بغیر وجہ بتائے گرفتار کرنے کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ جیل میں بند اناؤ کے رہائشی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے بنچ نے اسے فوری رہا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے ہیبیس کارپس کی درخواست کو بھی منظور کر لیا ہے۔ عدالت میں پتا چلا کہ پولیس نے درخواست گزار کو تحریری بنیاد فراہم کیے بغیر گرفتار کر لیا۔ عدالت نے پایا کہ پولیس نے گرفتاری کے وقت درخواست گزار کو کوئی دستاویزات فراہم نہیں کئے۔ اس دوران عدالت نے اتر پردیش حکومت پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ عدالت نے گرفتاری کے وقت وجہ نہ بتانے کو سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی قرار دیا۔
عدالت کی جاانب سے حکومت کو 10 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کے لیے 4 ہفتوں کا وقت دیا گیا ہے۔ اس مدت کے اندر حکومت درخواست گزار کو رقم فراہم کرے گی۔ حالانکہ عدالت نے حکومت کو معاملے میں قصوروار پائے جانے والے افسران سے یہ رقم وصول کرنے کی آزادی دی ہے۔ جسٹس پرمود کمار سریواستو اور عبدالمعین کی بنچ نے اناؤ میں گرفتار منوج کمار کے بیٹے مدیت کی درخواست پر یہ فیصلہ سنایا۔
عدالت کا کہنا ہے کہ افسران کے لیے ضروری ہے کہ گرفتارکرتے وقت اس کی وجوہات تحریری طور پر فراہم کی جائے۔ واضح رہے کہ 27 جنوری کو منوج کمار کو اناؤ کے اسیون تھانہ پولیس نے ایک کیس کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا۔ پولیس کی جانب سے گرفتاری کی وجہ بتانے کے بجائے صرف ایف آئی آر نمبر درج کیا گیا تھا۔ جس کے بعد مجسٹریٹ نے 28 جنوری کو ریمانڈ منظور کی تھی۔
درخواست گزار نے اپنی حراست اور گرفتاری کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس میں اس نے کہا تھا کہ اسے گرفتارکرتے ہوئے وجوہات تحریری طور پر فراہم نہیں کی گئیں جو ایک ضروری آئینی تحفظات کی خلاف ورزی ہے۔ اس پر ہائی کورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے ریمانڈ کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ اگر ملزم کسی الگ کیس میں مطلوب نہیں ہے تو اسے فوری طور پر رہا کیا جائے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔